تلنگانہ اسمبلی میں ہنگامہ، بی آر ایس ارکان مارشلس سے الجھ پڑے

   

(کے ٹی آرکیخلاف مقدمہ پر اسمبلی میں مباحث کا مطالبہ)
ایجنڈہ کاغذات کو پھاڑ کر اسپیکر کی طرف پھینکا، کانگریس کے ایک رکن نے چپل دکھائی ، دو مرتبہ ایوان کو ملتوی کرنا پڑا
حیدرآباد ۔20۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج اس وقت ہنگامہ آرائی اور اسپیکر کے پوڈیم کے گھیراؤ کے مناظر دیکھے گئے جب بی آر ایس ارکان نے پارٹی رکن کے ٹی راما راؤ کے خلاف فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں مقدمہ پر مباحث کی مانگ کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی ۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی ہریش راؤ کی قیادت میں بی جے پی کے ارکان نے فارمولہ ای ریس معاملہ میں مباحث کی مانگ کرتے ہوئے اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھوبھارتی بل کی منظوری سے قبل مباحث کی اجازت دی جائے۔ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پہلی مرتبہ بی آر ایس ارکان کو انتہائی جارحانہ موڈ میں دیکھا گیا اور انہوں نے ایوان میں تعینات مارشلس سے بحث و تکرار کی اور انہیں دھکیل دیا۔ مارشلس اور بی آر ایس ارکان کے درمیان دھکم پیل کے نتیجہ میں اسپیکر پرساد کمار نے کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کیا ۔ شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے دوران بی آر ایس اور کانگریس کے ارکان ایک دوسرے کی طرف بڑھنے لگے لیکن مارشلس نے انہیں ٹکراؤ سے روک دیا۔ ایوان میں نظم بحال کرنے کے لئے اسپیکر پرساد کمار کی اپیلوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ بی آر ایس ارکان نے اسمبلی کا ایجنڈہ اور دیگر کاغذات کو پھاڑ کر اسپیکر کی طرف اچھال دیا۔ اسپیکر پرساد کمار نے ہریش راؤ اور دیگر ارکان سے خواہش کی کہ وہ چیمبر میں ملاقات کریں تاکہ اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے لیکن بی آر ایس ارکان نے احتجاج کو جاری رکھا ۔ اسپیکر نے صبح 10.20 بجے پہلی مرتبہ 15 منٹ کے لئے کارروائی ملتوی کی جبکہ 11.30 بجے دوسری مرتبہ کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔ بی آر ایس ارکان سے نمٹنے کیلئے بڑی تعداد میں مارشلس کو ایوان میں طلب کرلیا گیا تھا ، باوجود اس کے بی آر ایس ارکان اسپیکر کے پوڈیم اور وزراء کی نشستوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک مرحلہ پر کانگریس کے رکن اسمبلی وی شنکر نے احتجاجی بی آر ایس ارکان کی جانب کوئی شئے پھینکیں جسے بی آر ایس ارکان نے چپل قرار دیا۔ بی آر ایس کے احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی جس کے بعد اسپیکر نے ایوان کو دوسری مرتبہ ملتوی کیا۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز پر ہریش راؤ نے کہا کہ فارمولہ ای ریسنگ میں کے ٹی آر کے خلاف مقدمہ ، انتقامی سیاسی کارروائی کا حصہ ہے ۔ کے ٹی آر کے امیج کو متاثر کرنے اور بی آر ایس کو بدنام کرنے کے لئے مقدمہ درج کیا گیا ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فارمولہ ای ریسنگ میں کوئی اسکام نہیں ہوا ہے ۔ تلنگانہ کی آمدنی میں اضافہ کے مقصد سے کے ٹی آر نے بیرونی ادارہ سے معاہدہ کیا تھا ۔ ہریش راؤ نے اس معاملہ پر ایوان میں مباحث کی مانگ کی تاکہ ریاست کی عوام حقیقت سے واقف ہوجائیں،۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس رکن کے ٹی آر اپنا موقف پیش کریں گے اور حکومت اپنے موقف کی وضاحت کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقدمہ درست ہے تو پھر حکومت کو مباحث کیلئے تیار ہونا چاہئے ۔ حکومت کے 420 انتخابی وعدوں کی تکمیل کیلئے آواز اٹھانے اور لگچرلا کے کسانوں سے ہمدردی پر کے ٹی آر کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بی آر ایس کے ارکان پلے کارڈس کے ساتھ ایوان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کرنے لگے۔ ہریش راؤ نے ایک مرحلہ پر مارشلس کے گھیرے کو توڑ کر اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچ گئے جس کے بعد بڑی تعداد میں مارشلس کو طلب کرلیا گیا ، جنہوں نے بی آر ایس ارکان کو اسپیکر کے پوڈیم سے دور کردیا گیا ۔ اسپیکر نے تیسری مرتبہ ایوان کی کارروائی کے آغاز کے بعد وزیر مال سرینواس ریڈی کو بھو بھارتی بل پر اظہار خیال کی دعوت دی اور بی آر ایس کے شور و غل کے دوران ایوان کی کارروائی چلائی گئی ۔ بی جے پی ارکان نے بی آر ایس کی تائید نہیں کی۔ 1