حیدرآباد۔/7 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے 6 برسوں میں جوابی حلفنامہ داخل نہ کرنے پر تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ شراب کے عادی افراد کیلئے علاج کے مراکز قائم کرنے کے بارے میں حکومت کی جانب سے کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا لہذا عدالت نے 25 اگسٹ کو اعلیٰ عہدیداروں سے شخصی طور پر حاضری کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ میڈیکل اینڈ ہیلت کے پرنسپل سکریٹری اور سینئر عہدیداروں کو 25 اگسٹ کے دن شخصی طور پر حاضر رہنا ہوگا، اگر وہ مقررہ وقت میں حلفنامہ داخل نہ کریں۔ سماجی جہد کار ایم وینو مادھو نے تلنگانہ کے تمام اضلاع میں شراب کی لعنت سے نجات دلانے کیلئے عادی افراد کے علاج کیلئے مراکز کے قیام کی جدوجہد شروع کی ہے۔ اس درخواست کی بارہا سماعت ہوئی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا۔ درخواست گذار نے کہا کہ ایک دہے پرانی میری درخواست کو اطلاع دیئے بغیر ہی یکسوئی کردی گئی لہذا وہ نئی درخواست کے ساتھ 2016 میں ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش میں 18 ڈی ایڈکشن سنٹرس قائم کئے گئے جہاں اضلاع کی تعداد صرف 13 ہے لیکن تلنگانہ میں شراب سے سالانہ آمدنی 30 ہزار کروڑ سے تجاوز کرنے کے باوجود ایک بھی سنٹر قائم نہیں کیا گیا۔ر