تلنگانہ میں بھی کانگریس کا انجام دہلی جیسا ہوگا : کے ٹی آر

   

برہم نوجوان اور کسان بغاوت پر اُتر آئیں تو کانگریس کا کوئی قائد سڑکوں پر نظر نہیں آئے گا
حیدرآباد۔ 21 جولائی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ دہلی میں نوجوانوں کو دھوکہ دینے کے بعد جو حشر کانگریس کا ہوا تھا، وہی انجام تلنگانہ میں بھی ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تلنگانہ کے برہم نوجوان اور کسان متحد ہوکر بغاوت پر اُتر آئیں تو ریاست میں کانگریس کا کوئی قائد سڑکوں پر نظر نہیں آئے گا۔ ضلع منچریال کے لکشمی دیوی پیٹ میں کسان کانفرنس سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت والی کسان دوست حکومت کی واپسی کے بغیر زراعت اور کسانوں کا بھلا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اس وقت جو خشک سالی کی صورتحال ہے، وہ کسی قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں بلکہ کانگریس حکومت کی بدانتظامی اور لاپرواہی کی پیدا کردہ مصنوعی خشک سالی ہے۔ اناج کے خریداری مراکز پر حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے چار کسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، لیکن حکومت نے ان اموات کو نظرانداز کردیا۔ بی آر ایس نے اس کے خلاف 8 گھنٹوں تک دھرنا دیا لیکن ڈھائی ماہ گذرنے کے باوجود حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو ایک روپیہ مالی امداد بھی نہیں دی ۔ کے ٹی آر نے اعلان کیا کہ کے سی آر کی ہدایت پر بی آر ایس پارٹی کی جانب سے مہلوک چار کسانوں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپئے کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کے سی آر کی شروع کردہ ریتو بیمہ اسکیم کے تحت بھی ہر متاثرہ خاندان کو 5 لاکھ روپئے کا انشورنس کور حاصل ہوا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ دوکانوں میں دستیاب یوریا بھی اب صرف ایپ کے ذریعہ دیا جارہا ہے جس سے عام کسان در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے ریتو بندھو کی چار قسطوں کے فنڈز روک کر کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔J2