تلنگانہ میں خانگی اور کارپوریٹ اسکولس کی تعلیم تجارت میں تبدیل

   

نئے تعلیمی سال کے آغاز پر لوٹ کھسوٹ جاری ، غریب اور متوسط طبقہ کے والدین پریشان
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں نئے تعلیمی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی پرائیوٹ اور کارپوریٹ اسکولس کی من مانی اور فیس کی بے تحاشہ وصولی نے غریب اور متوسط طبقے کے والدین کی کمر توڑ دی ہے ۔ انگریزی میڈیم میں اپنے بچوں کو پڑھانے کا خواب دیکھنے والے والدین اسکولس کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں ۔ جہاں داخلوں کے نام پر بھاری فیس طلب کی جارہی ہے ۔ جب کہ کئی نامور اسکولس نے ابھی سے ’ ایڈمیشن فل ‘ کے بورڈ آویزاں کردئیے ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر شہر سے لے کر منڈل سطح تک پھیلے کارپوریٹ اسکولس میں صرف ایل کے جی میں داخلے کے لیے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپئے تک فیس وصول کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین پر شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ داخلہ فیس اور سالانہ فیس ایک ساتھ جمع کرائیں ۔ اس بھاری مالی بوجھ کے باعث کئی والدین مایوس ہو کر اپنے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ 2009 کے واضح قوانین کے مطابق تمام خانگی اسکولس کو اپنے پاس موجود جملہ نشستوں کا 25 فیصد حصہ غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کے لیے مختص کرنا لازمی ہے ۔ تاہم زمینی سطح پر اس قانون کا نام و نشان نظر نہیں آتا ۔ اسکولس انتظامیہ غریب کوٹہ تو دور عام طلبہ سے بھی عطیات کی شکل میں موٹی رقم بٹور رہے ہیں ۔ والدین کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اسکول یونیفارم ، کتابیں ، نوٹ بکس اور دیگر ضروری اشیاء باہر کے بجائے لازمی طور پر اسکول یا ان کے متعین کردہ دوکانوں سے ہی خریدیں ۔ خانگی اور کارپوریٹ اسکولس کی اس لوٹ مار پر غریب اور متوسط طبقہ کے والدین سخت ناراض ہیں اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں اور فیس کا ایک جامع ڈھانچہ مقرر کریں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولس مینجمنٹ کے خلاف لائسنس کی منسوخی کے بشمول دیگر سخت قانونی کارروائی کریں اور ساتھ ہی والدین کو راحت فراہم کریں ۔۔ 2/m/b