محمد سراج کو ملازمت اور اراضی کے اعلان کا خیرمقدم، ہر ضلع میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تجویز
حیدرآباد۔/10 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کو 10 سال کے وقفہ کے بعد اقتدار سے سینئر قائدین میں عہدوں کیلئے امید میں اضافہ ہوچکا ہے۔ سابق صدر پردیش کانگریس اور پارٹی کے سینئر لیڈر وی ہنمنت راؤ نے آج راجیہ سبھا کی نشست کیلئے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ کیشو راؤ کے استعفی کے نتیجہ میں جو نشست خالی ہوئی ہے اس پر انہیں نامزد کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 9 برسوں سے انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا اور اب جبکہ راجیہ سبھا کی ایک نشست خالی ہوئی ہے لہذا انہیں نامزد کیا جائے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ سکندرآباد سے اگر انہیں پارٹی ٹکٹ دیا جاتا تو کانگریس کو یقینی کامیابی حاصل ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹکٹ الاٹمنٹ کے معاملہ میں بھی ان سے ناانصافی ہوئی ہے۔ راجیہ سبھا کی نشست کیلئے وہ ہائی کمان سے رجوع ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کے کمزور مظاہرہ کا جائزہ لینے کیلئے پی جے کورین کمیٹی کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ کمیٹی کو سب سے پہلے انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والے سنیل کونگلو سے ملاقات کرتے ہوئے وجوہات معلومات کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سینئر قائدین کے ساتھ ٹکٹ الاٹمنٹ میں ناانصافی ہوئی ہے۔ ہنمنت راؤ نے ٹی۔ 20 کی ورلڈکپ کی فاتح ٹیم میں شامل محمد سراج کے حیدرآباد سے تعلق کو باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ چیف منسٹر نے ملازمت اور زمین کا جو وعدہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ وہ سابق میں ابھرتے کرکٹ کھلاڑی کو تہنیت پیش کرچکے ہیں۔ ملک میں کرکٹ کیلئے عوام میں کافی جوش و خروش ہے۔ تلنگانہ میں حیدرآباد کے علاوہ کہیں بھی کرکٹ اسٹیڈیم موجود نہیں ہے جبکہ آندھرا پردیش میں 12 مقامات پر کرکٹ اسٹیڈیمس ہیں۔ انہوں نے ہر ضلع میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کیلئے فی کس 12 ایکر اراضی الاٹ کرنے کی چیف منسٹر ریونت ریڈی سے درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے۔ سابق کے سی آر حکومت نے اسپورٹس اور کھلاڑیوں کو نظرانداز کردیا تھا۔ انہوں نے ریاستی بجٹ میں اسپورٹس کیلئے زائد فنڈز مختص کرنے پر زور دیا۔ ہنمنت راؤ نے کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک قرضہ جات کی معافی کے فیصلہ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی سے اظہار تشکر کیا۔1