تلنگانہ میں روزانہ 8 سے زائد معصوم لڑکیاں جنسی درندگی کا شکار

   

65 فیصد دوست، 11 فیصد پڑوسی، 8 فیصد قریبی رشتہ دار، والدین ہوجایئے چوکنا
حیدرآباد ۔16 ۔ جون (سیاست نیوز) معاشرے میں دوستی، رشتہ داری اور پڑوسی کی آڑ میں معصوم بچوں کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے تشویش کی ایک نئی لہر دوڑادی ہے۔ حال ہی میں دوستی کے نام پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور پوکسو ایکٹ کے مقدمات درج ہونے کے بعد یہ سنگین مسئلہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے ۔ ویمنس سیفٹی ونگ اور بھروسہ سنٹرس کے حالیہ چونکا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لڑکیوں کے خلاف جنسی استحصال کے آدھے سے زیادہ واقعات خود ان کے قریبی دوستوں ، رشتہ داروں یا پڑوسیوں کی طرف سے انجام دیئے جارہے ہیں ۔ حیدرآباد پولیس کمشنریٹ کے حدود میں محض چار ماہ کے دوران 410 پوکسو کیس درج ہونے سے یہ تلخ حقیقت سامنے آئی ہے کہ 94 فیصد ملزمین متاثرہ لڑ کیوں کے جاننے والے تھے ۔ ان ملزمین میں سب سے بڑی تعداد یعنی 65 فیصد دوستوں کی تھی جبکہ 11 فیصد پڑوسی 8 فیصد قریبی رشتہ دار اور 4 فیصد اسکول بس کے ڈرائیورس ، دکاندار یا اپارٹمنٹ کے چوکیدار شامل پائے گئے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست تلنگانہ میں گزشتہ سال جون 2025 سے لے کر اپریل 2026 تک کے عرصہ میں پوکسو کے مجموعی طور پر 2799 کیس درج کئے گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست میں اوسطً روزانہ 8 سے زائد نابالغ لڑکیوں کو کسی نہ کسی شکل میں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھروسہ سنٹرس کے ماہرین اور پولیس انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں چونکہ متاثرہ معصوم لڑکیاں خوف اور صدمے کے باعث پولیس کو واقعہ کی صحیح تفصیلات بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے اس لئے بھروسہ سنٹرس کے ماہرین سب سے پہلے ان متاثرین کی نفسیاتی کونسلنگ کرتے ہیں ۔ جرم کی نوعیت کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں۔ فوری طبی امداد فراہم کرتے ہیں اور پھر پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرواتے ہیں ۔ یہ مراکز نہ صرف ابتدائی کارروائی کرتے ہیں بلکہ عدالت سے ملزمین کو سخت سزا ملنے تک متاثرین کو ہر ممکن قانونی و نفسیاتی مدد فراہم کرتے ہیں۔2/k/b