کے ٹی آر بے قصور ہیں تو عدالت کیوں گئے، برقی معاملہ میں تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر قانونی رائے کا حصول
حیدرآباد۔/7 جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ غلطی کرنے والا قانون سے بچ نہیں سکتا اور اس کی غلطی ایک نہ ایک دن منظر عام پر ضرور آتی ہے۔ کے ٹی آر کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر مال نے کہا کہ عدالتوں کا کام غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں اور دستوری اداروں کے روبرو طاقت کا مظاہرہ کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس حکومت کا مقصد بی آر ایس قائدین کو نشانہ بنانا نہیں ہے اور کوئی بھی حکومت کے نشانہ پر نہیں ہے۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ اگر کے ٹی آر نے کوئی غلطی نہیں کی ہے تو پھر وہ عدالت سے کیوں رجوع ہوئے، انہیں چاہیئے تھا کہ اینٹی کرپشن بیورو کی نوٹس پر تحقیقات کیلئے پیش ہوتے۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کے ٹی آر کے تبصرہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سرینواس ریڈی نے کہا کہ عدالت کے فیصلہ کے باوجود کے ٹی آر تبدیل نہیں ہوئے اور وہ ایک رائٹر بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال میں کے ٹی آر کے جذبہ میں اضافہ ہوا ہے۔ فارمولہ ای ریسنگ کمپنی کی جانب سے بی آر ایس کو عطیات کا حوالہ دیتے ہوئے سرینواس ریڈی نے کہا کہ کمپنی نے کانگریس پارٹی کو جو عطیات دیئے ہیں اس بارے میں بی آر ایس کو وضاحت کرنی چاہیئے کیونکہ اس وقت وہ اقتدار میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کو الیکٹورل بانڈس کے علاوہ اشکال میں بھاری عطیات دیئے گئے۔ بیرونی کمپنی سے حاصل ہونے والی رقم کس کے کھاتہ میں جمع کی گئی وضاحت کی جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی آر ایس ایک علاقائی پارٹی ہے باوجود اس کے بھاری ڈونیشن کا حصول کس طرح ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر جس کیس میں بھی رہیں گے وہاں ہریش راؤ پائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت کے سی آر خاندان کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔ اب تک جو بھی تحقیقات اور مقدمات درج کئے گئے وہ بی آر ایس قائدین کے مطالبہ پر کئے گئے ہیں۔ کالیشورم اور برقی معاہدات پر تحقیقات کا بی آر ایس نے مطالبہ کیا تھا۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ آئی اے ایس عہدیدار اروند کمار فارمولہ ای ریسنگ کے بارے میں حقائق پیش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی پارٹیوں سے زیادہ علاقائی پارٹی کو ڈونیشن حاصل ہونا باعث حیرت ہے۔ وزیر مال نے بتایا کہ بھوبھارتی بل کو منظوری کیلئے گورنر کے پاس بھیجا گیا ہے۔ گورنر کی منظوری کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ بھوبھارتی قانون کے رہنمایانہ خطوط طئے کرنے کیلئے دو ماہ لگ جائیں گے۔ وزیر مال نے کہا کہ ان کے دعویٰ کے مطابق سلسلہ وار سیاسی بم پھٹنے کا آغاز ہوچکا ہے۔ برقی معاملات میں تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ پیش کردی ہے اور حکومت نے رپورٹ پر قانونی رائے حاصل کی ہے۔ کالیشورم پر کمیشن کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ فون ٹیاپنگ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔1