ریاست میں بی جے پی کو مستحکم کرنے آر ایس ایس کی مہم، رائے دہندوں سے ملاقات
حیدرآباد۔4۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ہی قبل از وقت انتخابات کی پیش قیاسی کی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت اگر اچانک انتخابات کے لئے راہیں ہموار کرتی ہے تو ایسی صورت میں دیگر سیاسی جماعتوں کو دھکہ لگ سکتا ہے لیکن سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ہی ریاست کے دیہی علاقوں اور اضلاع میں آر ایس ایس نے بھی اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے اور وہ اپنے کارکنوں کے ذریعہ ذہن سازی اور مخالف حکومت نظریات کو فروغ دینے میں مصروف ہوچکی ہے۔ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے استحکام کے لئے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کیخدمات حاصل کی جانا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں سیوم سنگھ کے کارکنوں کو متحرک کرتے ہوئے انہیں عوام کے درمیان پہنچ کر نظریہ سازی کا کام کرنے کی تربیت کو استعمال کرنے کی ہدایت دی جاچکی ہے۔ آر ایس ایس تلنگانہ میں ریاستی حکومت کے خلاف ماحول کی تیاری اور بی جے پی کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ حضور آباد انتخابات میں آر ایس ایس کارکنوں کی جانب سے بی جے پی امیدوار کے حق میں مہم اور اس کے علاوہ رائے دہندوں سے راست رابطہ کی اطلاعات نے نہ صرف ریاستی حکومت بلکہ تمام سیاسیجماعتوں کو چوکنا کردیا ہے لیکن منگوڈو میں بی جے پی کی شکست کا جائزہ لینے کے بعد آر ایس ایس نے بائیں بازو اثرات کے حامل حلقہ جات اسمبلی کے بجائے ان حلقہ جات اسمبلی پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جہاں عوام سے راست ملاقات کے ذریعہ انہیں مرکزی حکومت اور نریندرمودی کی کارکردگی سے متاثر کیا جاسکتا ہے۔ آر ایس ایس کی جانب سے تلنگانہ کے تمام اضلاع میں کارکنوں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں عوام کے درمیان رہنے کیلئے کہا گیا ہے علاوہ ازیں آر ایس ایس کے کئی سرکردہ قائدین تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے ضلعی قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور انہیں ضلعی یونٹ کے ساتھ ساتھ منڈل سطح پر آر ایس ایس کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عوام کو تنظیم سے جوڑنے کے اقدامات کے لئے ترغیب دے رہے ہیں۔ ریاستی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے حکومت کو دی جانے والی رپورٹ میں یہ واضح طور پر کہا جاچکا ہے کہ آر ایس ایس کارکن تلنگانہ میںبی جے پی کارکنوں کی طرح کام کرتے ہوئے بی جے پی حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافہ کو ریاستی حکومت کی جانب سے نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جاتی رہی ہے لیکن اب یہ پالیسی ریاست میں برسراقتدار پارٹی کے لئے تکلیف اور مشکلات کا باعث ثابت ہونے لگی ہے کیونکہ اکثریتی غالب آبادیوں میں آر ایس ایس واٹس ایپ گروپس کیا علاقہ کے سرکردہ افراد کے ذریعہ پہنچنے لگی ہے اور نظریہ سازی کے ساتھ ساتھ اپنے مستقبل کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہاہے۔م