تلنگانہ میں صنف نازک اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں !

   

ازدواجی زندگی کی کشیدگی میں 40 فیصد کا اضافہ ، خواتین پر مظالم میں گھریلو تشدد سرفہرست
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : خواتین اپنے گھروں میں محفوظ نہیں ہیں ۔ جنھیں وہ اپنا محافظ تصور کرتی ہیں ۔ انہیں لوگوں کے ظلم و ستم کا زیادہ تر شکار ہورہی ہیں ۔ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں تلنگانہ میں خواتین پر ہونے والے ظلم و زیادتی کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ نصف تعداد گھریلو تشدد کی ہے ۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خواتین اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں ہے ۔ ایسے واقعات سارے سماج کے لیے لمحہ فکر ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے بہ نسبت متاثرہ خواتین اپنے اوپر ہونے والے جرائم کی شکایت درج کرانے کے لیے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے آرہی ہیں ۔ اس میں والدین اور رشتہ داروں کی حوصلہ افزائی ہے اس کے علاوہ تلنگانہ میں خواتین کی سیکوریٹی کے لیے تشکیل کردہ شعبہ ’ شی ٹیمس ‘ اہم رول ادا کررہا ہے ۔ شی ٹیم کی جانب سے کالجس میں لڑکیوں میں شعور بیدار کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی دوسرے شعور بیداری پروگرامس کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں متاثرہ لڑکیاں و خواتین اپنے خلاف ہونے والے جرائم کی مقامی پولیس اسٹیشن پہونچکر شکایتیں کررہی ہیں ۔ ساتھ ہی واٹس اپ ، فیس بک ، ٹوئٹر ، ای میل کے علاوہ کیوآر کوڈ اسکیاننگ کے ذریعہ مقدمات درج کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ جس سے مقدمات درج کرانے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ خواتین کے خلاف جرائم میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 3.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ جو خواتین پر ہونے والے مظالم کی صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اگر سال 2021 میں 17,253 جرائم ہوئے ہیں تو گذشتہ سال 17,908 جرائم واقعات کے ریکارڈ درج ہوئے ہیں ۔ جس میں گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اس زمرے میں گذشتہ سال کے بہ نسبت 8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ازدواجی معاملات میں مظالم کا غیر معمولی اضافہ تشویش کا باعث بن گیا ہے ۔ سال 2021 کے مقابلے میں سال 2022 میں 40 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے گھریلو تشدد کے واقعات عروج پر پہونچ گئے ہیں ۔ خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف پولیس بھی سرگرم ہوگئی ہے ۔ مقدمات درج ہوتے ہی تحقیقات کرنے ثبوت اکٹھا کرنے چارج شیٹ داخل کرنے اور عدالتوں میں گواہوں کو پیش کرنے میں ذمہ دارانہ رول ادا کررہی ہے ۔ جس کی بدولت جملہ 59 مقدمات میں 70 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ جن میں 25 کیس میں 28 افراد کو جہیز قتل / قتل کے کیس میں سزا ہوئی ہے ۔ دو ہراسانی و ظلم زیادتی کے مقدمات میں 3 افراد کو 4 عصمت ریزی کے مقدمات میں 5 افراد کو 25 قتل کے واقعات میں 31 افراد کو پیسوں کی خاطر خواتین کو قتل کرنے کے تین مقدمات میں 3 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔