ایس سی، بی سی، ایس ٹی اور اقلیتی طلبہ کا سماجی جہدکاروں، پروفیسرس اور سرکردہ سیاسی قائدین کو کھلا مکتوب
حیدرآباد۔2۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں فیس بازادائیگی و اسکالر شپس بحران کے سبب پیداشدہ صورتحال نے اب سماجی جہد کاروں‘ دانشوروں اور پروفیسرس و سرکردہ شخصیات کی توجہ حاصل کرلی ہے اور تلنگانہ کی کئی اہم شخصیات نے تلنگانہ میں ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی ‘ اقلیتی طلبہ کے فیس بازادائیگی اسکیم کے بقایا جات کے علاوہ اسکالرشپس کی اجرائی کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی کوتاہی کی شکایات کانگریس اعلیٰ کمان قائدین صدر اے آئی سی سی مسٹرملکارجن کھرگے ‘ قائد اپوزیشن مسٹرراہول گاندھی ‘ چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی ‘ محترمہ میناکشی نٹراجن ‘ مسٹر کے راجو‘ جناب عمران پرتاپ گڑھی ‘ بیرسٹر اسدالدین کو روانہ کرتے ہوئے ان سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ریاست میں غریب طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کو فوری بند کیا جائے اورحکومت تلنگانہ کی جانب سے فیس بازادائیگی اسکیم و اسکالرشپس کے تحت اداشدنی رقومات کی فوری اجرائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کا مستقبل تاریک ہونے سے محفوظ رہے۔ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن تلنگانہ کے صدر جناب حماد الدین کے علاوہ ’اسیم ‘ نامی تنظیم کے جنرل سیکریٹری جناب ایس کیو مسعود کی جانب سے شروع کی گئی مہم اور مذکورہ قائدین کو روانہ کئے گئے ’کھلے مکتوب‘ پر مسٹر جیون کمار‘ پروفیسر پدمجا شا‘ پروفیسر رما ملکوٹے ‘ مسٹر وینکٹ ریڈی ‘ محترمہ خالدہ پروین کے علاوہ میرا سنگا مترا ملک ‘ محترمہ افسر جہاں اور دیگر نے دستخط کرتے ہوئے ریاست میں ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتی طلبہ کو فیس بازادائیگی و اسکالر شپ اسکیمات سے محروم کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کانگریس پارٹی کے اعلیٰ قائدین کے علاوہ دیگر عوامی نمائندوں سے خواہش کی کہ وہ اس معاملہ میں آواز اٹھاتے ہوئے ان اسکیمات کو جاری رکھنے کے لئے نمائندگی کریں اور ان اسکیمات کے تحت موجود بقایا جات کی اجرائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ مذکورہ کھلے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو حکومت سے اپنی فیس اور اسکالر شپ کے حصول کے لئے عدالتوں سے رجوع ہونا پڑرہا ہے علاوہ ازیں عدالت کے احکامات کے باوجود متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے عدالت کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اپیل کی گئی ہے کہ طلبہ جو فیس بازادائیگی اور اسکالر شپس کے ذریعہ تعلیم حاصل کر چکے ہیں ان کے تعلیمی اسنادات تعلیمی اداروں کے پاس ہونے کے سبب وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول اور ملازمتوں کے حصول میں ناکام ہونے لگے ہیں جو کہ روزگار کے بحران اور بے روزگاری میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ریاست میں طلبہ کے لئے شروع کی گئی ان اسکیمات پر مؤثر عمل آوری ریاست میں خواندگی کے فیصد کو بہتر بنانے میں انتہائی معاون ثابت ہوئی ہے اسی لئے ان اسکیمات کو ختم ہونے سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔H/M/3