وزیر داخلہ امیت شاہ سے قربت رکھنے والے سنیل بنسل کو ریاست کی ذمہ داری ۔ خود پارٹی قائدین حیرت زدہ
حیدرآباد11 اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مذہبی منافرت میں اضافہ کے علاوہ مسلمانوں کو ہراسانی کے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے !تلنگانہ میں بی جے پی اپنی کامیابی کیلئے حکمت عملی کو تبدیل کرچکی ہے اور آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کیلئے اترپردیش کے طرز پر حکمت عملی تیار کی جائیگی۔ بی جے پی کی جانب سے سنیل بنسل کو تلنگانہ کا انچارج بنائے جانے پر خود ریاستی بی جے پی قائدین حیرت زدہ ہیں اور کہا جار ہاہے کہ اترپردیش میں دو مرتبہ بی جے پی کو اقتدار دلوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے قائد کو تلنگانہ ‘ مغربی بنگال اور اوڈیشہ کا انچارج بنایا جانا ان کیلئے ناقابل فہم ہے لیکن وہ قومی بی جے پی کے فیصلے سے کافی خوش ہیں۔ سنیل بنسل نے اترپردیش میں بی جے پی کو اقتدار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ پارٹی کے ان قدآور قائدین میں شمار کئے جاتے ہیں جو کہ راست امیت شاہ کی چانکیہ نیتی پر عمل کرتے ہیں۔ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے اور ٹی آر ایس و کانگریس کو کمزور کرنے بی جے پی کے فیصلہ کو سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت دی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت تلنگانہ کو نشانہ بنانے سنیل بنسل نے اپنی حکمت عملی تیار کرکے اس سے پارٹی اعلیٰ قیادت کو واقف کروادیا ہے۔ اترپردیش میں کامیاب حکمت عملی اور اقتدار حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھنے والے سنیل بنسل کو تلنگانہ کی ذمہ داری تفویض کئے جانے کے ساتھ ہی ٹی آر ایس و کانگریس کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی پڑسکتی ہے اور حکومت تلنگانہ کو بی جے پی کے سخت موقف کا سامنا بھی کرناپڑسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی قومی قیادت نے ترون چوگھ کے ساتھ سنیل بنسل کو جو ذمہ داری تفویض کی ہے اس کا مقصد تلنگانہ سے زیادہ سے زیادہ ارکان پارلیمان کی کامیابی کو یقینی بنانا ہے اور بی جے پی قائدین موجودہ صورتحال میں جنوبی ہند میں پارٹی کو مستحکم کرنے پر توجہ کئے ہوئے ہیں۔ ریاستی بی جے پی قائدین اور پارٹی کی نظریہ ساز تنظیم آر ایس ایس کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ تلنگانہ میں اب بی جے پی کی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوگا کیونکہ سنیل بنسل ایک حرکیاتی قائدہیں اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر کارکردگی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جبکہ ترون چوگھ کے تعلق سے مشہور ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ساتھ ڈپلومیسی پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔ سنیل بنسل کو تلنگانہ کے ساتھ مغربی بنگال اور اوڈیشہ کی ذمہ داری دئے جانے پر کہا جا رہاہے کہ بی جے پی قیادت کی نظریں ریاست سے زیادہ مرکزی حکومت میں ان ریاستوں کے ارکان پارلیمان کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے لیکن ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمان کے علاوہ ریاستی امور پر بھی ان کی موجودگی اثرانداز ہوسکتی ہے کیونکہ حکومت کے خلاف ماحول کی تیاری میں سنیل بنسل اسی حکمت عملی کو اختیار کرسکتے ہیں جو حکمت عملی انہوں نے اترپردیش میں اختیار کی تھی۔م