آئی اے ایس عہدیداروں پر غیر ضروری دباؤ ، کئی محکمہ جات کی کارکردگی بری طرح متاثر
حیدرآباد ۔29۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان تال میل کی کمی کے نتیجہ میں کئی محکمہ جات کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ۔ وزراء کی جانب سے عہدیداروں پر بڑھتے دباؤ کے نتیجہ میں اسکیمات پر عمل آوری متاثر ہوئی ہے اور محکمہ جات میں تعطل کا معاملہ چیف منسٹر ریونت ریڈی تک پہنچ چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی محکمہ جات ایسے ہیں جہاں پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز نے خدمات انجام دینے سے انکار کردیا ہے کیونکہ متعلقہ وزراء کی جانب سے ان پر فیصلوں کے سلسلہ میں دباؤ بنایا جارہا ہے ۔ حال ہی میں ایکسائز پالیسی کے مسئلہ پر ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ سے اختلاف کے نتیجہ میں سینئر آئی اے ایس عہدیدار سید علی مرتضیٰ رضوی نے رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرلی حالانکہ ان کی سرویس کے مزید 10 سال باقی تھے۔ سید علی مرتضیٰ رضوی اپنی سرویس کے اعتبار سے چیف سکریٹری رینک تک پہنچ سکتے تھے لیکن ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے انہیں بعض ایسے فیصلے کرنے کیلئے دباؤ بنایا جو قواعد کے اعتبار سے ممکن نہیں تھا۔ ریاستی وزیر اور سینئر عہدیدار کے درمیان اختلافات کا معاملہ چیف منسٹر دفتر تک پہنچا ، باوجود اس کے یکسوئی نہیں ہوپائی۔ آخرکار سید علی مرتضیٰ رضوی نے رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرتے ہوئے سرکاری خدمت کو خیرباد کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی محکمہ میں یہی صورتحال ہے جس کے نتیجہ میں وزراء اور عہدیداروں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان دنوں محکمہ انڈومنٹ کے تنازعات اخبارات اور سوشیل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہورہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر انڈومنٹ کونڈا سریکھا اور محکمہ کے سینئر عہدیداروں میں کئی امور پر اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کونڈا سریکھا گزشتہ ایک ماہ سے محکمہ کی سرگرمیوں سے دور ہیں ۔ انہوں نے محکمہ کا کوئی بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حال ہی میں کالیشورم مندر کے دورہ اور میڈی گڈا میں جلسہ عام کے موقع پر بھی کونڈا سریکھا غیر حاضر رہیں۔ ان کی غیر حاضریپر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ جاریہ سال میڈارم جاترا کے موقع پر بعض اہم کاموں کو محکمہ انڈومنٹ سے عمارات و شوارع منتقل کیا گیا۔ گزشتہ سال کریم نگر میں سرسوتی پشکرالو کے انتظامات ضلع سے تعلق رکھنے والے وزیر ڈی سریدھر بابو کی نگرانی میں کئے گئے تھے۔ انڈومنٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے گزشتہ دنوں گورنر شیور پرتاپ شکلا سے ملاقات کرتے ہوئے 21 تا یکم جون سرسوتی پشکرالو میں شرکت کی دعوت دی۔ گورنر کو پاور پوائنٹ پریزینٹیشن دیا گیا۔ پرنسپل سکریٹری شیلجا رمیار ، کمشنر انڈومنٹ ہنمنت راؤ اور دیگر عہدیدار موجود تھے لیکن وزیر انڈومنٹ غیر حاضر رہیں۔ کونڈا سریکھا کے دفتر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاستی وزیر ناسازیٔ مز اج کے سبب محکمہ کی سرگرمیوں سے دور ہیں۔ تاہم حکومت اور کانگریس پارٹی کے حلقوں میں کونڈا سریکھا اور اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان اختلافات کی خبریں عام ہیں۔ حال ہی میں کونڈا سریکھا کی دختر نے کنٹراکٹرس کو دھمکی دینے کے معاملہ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کے قریبی افراد کو نشانہ بنایا تھا۔ چیف منسٹر سے کونڈا سریکھا کی طویل عرصہ تک ملاقات نہیں ہوئی تاہم سینئر وزراء نے مداخلت کرتے ہوئے معاملہ کو ختم کیا تھا۔1/k/m/b
بتایا جاتا ہے کہ محکمہ جات فینانس ، ریونیو ، ہیلت ، ہاؤزنگ اور دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدیداروں اور وزراء کے درمیان تال میل کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی اے ایس عہدیداروں کے تبادلے وقفہ وقفہ سے کئے جارہے ہیں۔1/k