تلنگانہ میں گھریلو اور زرعی صارفین کیلئے برقی کٹوتی کا آغاز

   

سابق وزیر نرنجن ریڈی کا الزام، اسمبلی سیشن میں سابق حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش
حیدرآباد۔/18فروری، ( سیاست نیوز) سابق وزیر زراعت نرنجن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدارآتے ہی زرعی اور گھریلو شعبہ جات کیلئے برقی کٹوتی کا آغاز ہوچکا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرنجن ریڈی نے کہا کہ کسان برقی کی عدم سربراہی پر سب اسٹیشنوں کے روبرو دھرنا دینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے رعیتو بندھو کی امدادی رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے صرف 3 ایکر اراضی رکھنے والوں کو امدادی رقم جاری کی گئی جبکہ دیگر کسان محروم ہیں۔ حکومت کو اس سلسلہ میں وضاحت کرنی چاہیئے کہ باقی کسانوںکو رعیتو بندھو امدادی رقم کب جاری کی جائے گی۔ نرنجن ریڈی نے کہا کہ 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت غیر سنجیدہ ہے۔ خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت کے سوا کوئی اور وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ حکومت کی تشکیل کو 72 دن مکمل ہوچکے ہیں لیکن کانگریس حکومت مختلف بہانے تلاش کررہی ہے۔ نرنجن ریڈی نے کہا کہ ہماچل پردیش اور کرناٹک میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی ابھی تک تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش میں 10 ضمانتوں پر عمل آوری کا وعدہ کیا گیا تھا اور عوام احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔ بی آر ایس قائد نے کہا کہ کرناٹک میں بھی کسان حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں کانگریس اور بی جے پی میں دوستی ہوچکی ہے اور بی جے پی ضمانتوں پر عمل آوری کے بارے میں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی تحقیقات کیلئے بی آر ایس تیار ہے۔ سابق حکومت کو بدنام کرنے کیلئے میڈی گڈہ پراجکٹ میں شگاف کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تحقیقات کے ذریعہ حقائق عوام کے روبرو پیش کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت سے سوال کرنے میں بی جے پی کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں میں مفاہمت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کو سابق بی آر ایس حکومت پر الزام تراشی کیلئے استعمال کیا گیا۔ آبپاشی پراجکٹس پر ہریش راؤ کو جواب دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔1