تلنگانہ میں یوتھ کانگریس انتخابات کی شفافیت پر شبہات کا اظہار

   

فرضی رکنیت سازی کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش، دولت کا بے دریغ استعمال، ہائی کمان سے قائدین کی شکایت

حیدرآباد۔ تلنگانہ میں یوتھ کانگریس کے انتخابات کا عمل حقیقی کارکنوں کے انتخاب کے بجائے بوگس ممبر شپ کے ذریعہ کامیابی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پارٹی نے آن لائن انتخابات کا فیصلہ کیا جس کے نتیجہ میں دولت مند امیدوار بھلے ہی اُن کی کانگریس اور اس کے نظریات سے گہری وابستگی نہ ہو لیکن وہ بوگس ممبر شپ کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔ ریاستی سطح سے لیکر اسمبلی حلقہ جات تک کے عہدوں کیلئے آن لائن رائے دہی کا عمل اتوار کی آدھی رات کو ختم ہوچکا ہے تاہم پارٹی کے سینئر قائدین نے انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی کی اعلیٰ کمان سے شکایت کی ہے۔ عہدوں پر کامیابی کیلئے می سیوا سنٹرس اور حکومت کی مختلف اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے فرضی ممبر شپ کی جارہی ہے اور ان سرگرمیوں میں آن لائن اور می سیوا مراکز فی ممبر 200 روپئے چارج کررہے ہیں۔ انتخابات کے موجودہ طریقہ کار کی صورت میں حقیقی کارکن دولت سے محرومی کے نتیجہ میں عہدہ سے محروم ہوسکتے ہیں اور کئی ایسے امیدوار جو مجرمانہ ریکارڈ کے حامل ہیں وہ بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ریاست کے سینئر پارٹی قائدین نے اے آئی سی سی کے نئے انچارج سکریٹری مانکم ٹیگور سے اس سلسلہ میں شکایت کی ہے۔ آن لائن رائے دہی کی صورت میں بھاری رقومات خرچ کرتے ہوئے رائے دہندوں کو راغب کیا جارہا ہے اور بعض صورتوں میں بوگس ممبر شپ کرتے ہوئے ایکٹیو ممبر کے ذریعہ اپنے حق میں ووٹ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ رائے دہی کی تکمیل کے بعد ابتدائی 4 زائد ووٹ حاصل کرنے والے افراد کو دہلی طلب کیا جائے گا اور انٹرویو کی بنیاد پر ان کا تقرر عمل میں آئے گا۔ ریاستی یوتھ کانگریس کی صدارت کیلئے 7 سرگرم امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں سے بعض امیدوار سینئر قائدین کے رشتہ دار ہیں۔ سابق مرکزی وزیر بلرام نائیک کے فرزند سائی شنکرکے علاوہ این ایس یو آئی کے لیڈر آر شام راؤ، سابق پردیش کانگریس صدر و سابق رکن پارلیمنٹ تلسی رام کے فرزند للت، سابق ایم پی سریش شیٹکر کے فرزند راکیش شیٹکر اور سابق ایم پی انجن کمار یادو کے فرزند اروند کمار یادو اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔ ان میں سے 2 کے خلاف مجرمانہ مقدمات زیر دوران ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اکثر امیدواروں نے می سیوا سنٹرس اور دیگر اداروں سے ووٹر آئی ڈی کارڈز کو خریدا ہے۔ 30 سے زائد می سیوا سنٹرس نے ووٹر آئی ڈی کارڈ کو فروخت کرتے ہوئے آن لائن رائے دہی کا آغاز کیا ہے۔ کانگریس پارٹی ریاست میں یوتھ کانگریس کی 8 لاکھ رکنیت کا دعویٰ کررہی ہے اور یہ رائے دہی کے اختتام تک 9 لاکھ ہوسکتے ہیں لیکن ان میں سے بمشکل 30 فیصد حقیقی کارکن ہوں گے۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ اگر یوتھ کانگریس کے 9 لاکھ حقیقی ورکرس ہیں تو پھر پارٹی کا برسراقتدار آنا یقینی ہے۔ ہر 4 عام ممبرس کیلئے ایک ایکٹیو ممبر کی گنجائش ہے، ایکٹیو ممبر کو رائے دہی کا حق حاصل رہتا ہے اور می سیوا، گیس ایجنسیز، شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں 18 تا 35 سال عمر کے افراد کا آئی ڈی کارڈ حاصل کرتے ہوئے بوگس ممبر شپ کی جارہی ہے اور ایک ووٹ کیلئے می سیوا مراکز 200 روپئے چارج کررہے ہیں۔ ایکٹیو ممبر اسمبلی حلقہ ، ضلع اور ریاستی سطح کے لئے آن لائن ووٹ دے سکتا ہے۔ کئی دولت مند امیدواروں نے ضلعی سطح پر پیانل تشکیل دیئے ہیں اور کامیابی کیلئے جان توڑ کوشش کی جارہی ہے۔ کیرالا میں مقامی پارٹی نے آن لائن انتخابات کی تجویز کو مسترد کردیا۔ تاملناڈو میں یوتھ کانگریس کے انتخابات کیلئے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی۔ تلنگانہ میں استعمال کیا گیا طریقہ کار حقیقی کارکنوں کو عہدوں سے محروم کرسکتا ہے۔