119 اسمبلی حلقہ جات میں انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی تعمیر، آبپاشی پراجکٹس پر توجہ، ریاستی وزیر اتم کمار ریڈی کا دعوی
حیدرآباد۔/31 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے 2024 میں ریاست کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لئے غیر معمولی قدم اٹھائے ہیں اور حکومت کی کارکردگی کے نتیجہ میں سال 2024 عوام کیلئے خوشحال ثابت ہوا۔ سال نو کے موقع پر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ پرجا پالنا میں عوام کی بھلائی حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان پر عمل آوری جاری ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ محکمہ جات آبپاشی اور سیول سپلائیز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے شفافیت پیدا کی گئی۔ کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ زرعی اراضیات کو سیراب کرنے کیلئے نئے پراجکٹس کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے جن شعبہ جات کو نظرانداز کردیا تھا ان پر کانگریس حکومت نے توجہ مرکوز کی ہے۔ 2024 تلنگانہ کی ترقی اور بھلائی کا سال ثابت ہوا ہے۔ حکومت نے مالی دشواریوں کے باوجود انتخابی وعدوں پر عمل آوری کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں تلنگانہ مزید ترقی کرے گا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی سماجی انصاف کے بارے میں اپنے عہد کی پابند ہے اور کمزور و پسماندہ طبقات کو انصاف دلانے کیلئے ذات پات پر مبنی سروے کا اہتمام کیا گیا۔ ایس سی زمرہ بندی کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل آوری کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات پر مبنی زمرہ بندی نے ملک کیلئے مثال قائم کی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے مختلف شعبہ جات میں حکومت کی جانب سے بھلائی کے اقدامات کی تفصیلات جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں بھی حکومت کی کارکردگی میں شفافیت برقرار رہے گی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت ترقی اور بھلائی کے ایجنڈہ پر قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آر ٹی سی میں مفت سفر کی سہولت، 500 روپئے میں گیس سلینڈر، 200 یونٹ مفت برقی اور آروگیہ شری کے تحت 10 لاکھ روپئے تک مفت علاج کی فراہمی کا آغاز ہوچکا ہے۔ حکومت نے سفید راشن کارڈ پر عوام کو باریک چاول کی سربراہی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی قرض معافی کے معاملہ میں کانگریس حکومت نے 21000 کروڑ جاری کئے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریتو بھروسہ اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ اندراماں انڈلو اسکیم کا سنکرانتی سے آغاز ہوگا۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ 5000 کروڑ سے 119 اسمبلی حلقہ جات میں انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں جہاں طلبہ کیلئے بہتر انفرااسٹرکچر سہولتیں دستیاب رہیں گی۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو کارپوریٹ طرز کی تعلیم سرکاری سطح پر مفت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔1