درخواست گذار کی ’’وصولی راجہ‘‘ سے ملاقات کے بغیر یکسوئی ناممکن
حیدرآباد۔7۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد بورڈ اور عہدیداروں کے درمیان جاری عدم تعاون کے سبب بورڈ کی کارکردگی متاثر ہونے لگی ہے اور بورڈ کی ہدایات پرعہدیداروں کی جانب سے عدم عمل آوری صدرنشین بورڈ و اراکین وقف بورڈ کے لئے مستقبل میں مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بورڈ کی تشکیل جدید کے باوجود وقف بورڈ کی رفتار بے ڈھنگی جاری ہے اور بورڈ کے ذمہ داروں سے دریافت کرنے پر وہ اس کے لئے عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جبکہ عہدیداروں کا کہناہے کہ وہ اپنے کام کرنے کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے کیونکہ وہ عرصہ دراز سے اسی طرح سے کام کرتے آئے ہیں۔ وقف بورڈ میں داخل کی جانے والی درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ درخواست گذار کی ’وصولی راجہ ‘ سے ملاقات کے بغیر درخواست کی یکسوئی نہیں ہوسکتی اور وقف بورڈ کے دیگر شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والے عہدیدارو ملازمین بھی اس شخص سے خوفزدہ ہیںکیونکہ انچارج چیف ایکزیکیٹیو آفیسر کو حقائق سے واقف کروائے جانے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ جن لوگوں نے حقائق کو اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچایا ان کا تبادلہ کردیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق عہدیداروں نے منصوبہ بند انداز میں صدرنشین وقف بورڈ کے ساتھ عدم تعاون کا موقف اختیار کیا ہوا ہے تاکہ ان کی کارکردگی کو بہتر ہونے سے روکا جاسکے ۔ عہدیداروں کی اس طرح کی کوششیں دراصل بورڈ کی عدم موجودگی کے دور میں چلائی جانے والی سرگرمیوں کی پردہ پوشی کے لئے کی جا رہی ہے لیکن ان کی اس طرح کی کوششیں ریاست میں بورڈ کی بدنامی اور عدم کارکردگی کا سبب بننے لگی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے دوران عہدیداروں نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عہدیدار نہیں چاہتے کہ وہ صدرنشین اور اراکین وقف بورڈ کے تحت کام کریں بلکہ وہ آزادانہ طو رپر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کے حق میں ہیں۔وقف بورڈ کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مطابق انچارج سی ای او وقف بورڈ صدرنشین کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں انتظامی امور کے علاوہ ملازمین کے امور میں مداخلت سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں جبکہ صدرنشین وقف بورڈ کا سربراہ ہوتا ہے اور وہ تمام امور میں مداخلت اور فیصلہ کا مجاز ہے لیکن اس کے باوجود عہدیدارو ںکی جانب سے ان کا دائرہ متعین کیا جانا بالواسط طور پر وقف بورڈ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ م