تلنگانہ وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کو کھولنے کیلئے عدالت کے حکم پر عدم عمل آوری

   

ریکارڈ روم میں گزٹ، عطیات کورٹ اور منتخب کی موجودگی سے پیروی میں مشکلات
حیدرآباد۔10۔مئی(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ کے پاس عدالت کے احکامات کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے کیونکہ عدالت نے تلنگانہ وقف بورڈ کے ’ریکارڈ روم‘کو کھولنے حکم دیئے ہوئے 6برس کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن وقف ریکارڈ روم کی کشادگی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے نتیجہ میں عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات میں وقف بورڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور تلنگانہ ہائی کورٹ میں جو ’وقف گزٹ‘ کالعدم قرار دیئے جا رہے ہیں اس سازش میں وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کو مہربند رکھا جانا بھی شامل ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے گزٹ کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد جن سازشوں کا انکشاف ہورہا ہے اس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کے ریکارڈ روم میں مذکورہ ’گزٹ‘ سے متعلق تمام دستاویزات بشمول ’عطیات کورٹ‘ کی جانب سے صادر کئے گئے احکامات اور ’منتخب‘ موجود ہیں لیکن وقف بورڈ کی جانب سے ان دستاویزات کو عدالت میں پیش نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں 2007 میں جاری کیاگیا ’گزٹ ‘ کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت موجود موقوفہ اراضیات سے متعلق ’گزٹ‘ سے مربوط دستاویزات عدالت میں مقدمہ کے دوران پیش کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس جائیداد کو اب بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے جس کی مالیت ہزاروں کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے 2017 میں داخل کی گئی ایک رٹ درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ صادر کرتے ہوئے اس بات کی ہدایت دی تھی کہ 28 نومبر 2017 کے بعد اندرون 6ہفتہ تلنگانہ وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کو کھول دیا جائے لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہوئے 6 سال کا عرصہ گذرنے کو ہے اس کے باوجود وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کی کشادگی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کے نتیجہ میں عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات میں جائیدادوں سے متعلق دستاویز پیش کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ ’روزنامہ سیاست‘ میں درگاہ شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے گزٹ کو کالعدم دیئے جانے کی خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی چیف اکزیکٹیو آفیسر نے حرکت میں آتے ہوئے وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل وکلاء کو نہ صرف مقدمہ میں پیروی کی تحریری ہدایات جاری کی ہیں بلکہ متولی و سجادہ نشین درگاہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی ؒ کو وقف بورڈ طلب کرتے ہوئے انہیں اس بات کا پابند بنایا کہ وہ مذکورہ ادارہ کے تحت موجودہ اراضیات کے تحفظ کے ذمہ دارہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت میں مذکورہ ادارہ کے تحت موجود جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ علاوہ ازیں متولی وسجادہ نشین درگاہ کو سی ای او نے انتباہ دیا کہ اگر وہ مہیشورم منڈل میں موجود ’کونگرا خرد‘ کی اس انتہائی قیمتی اراضی کے تحفظ میں ناکام ہوتے ہیں تو وقف بورڈ ان کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کی کشادگی کے سلسلہ میں عدالت میں داخل کی گئی درخواست 296/2017 میں درخواست گذار کوئی اور نہیں بلکہ خود تلنگانہ وقف بورڈ کے رکن جناب ایم اے کے مقیت ہیں اور وہ رکن رہتے ہوئے حاصل کئے جانے والے ان احکامات پر اب تک بھی عمل کروانے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ پیشرو حکومت نے تلنگانہ وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کو مہربند کیا تھا اسے اقتدار حاصل کرنے کے فوری بعد کھول دیا جائے گا لیکن اب جبکہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوئے 2.5برس ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی تلنگانہ وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کی کشادگی عمل میں نہیں لائی گئی ۔3