تلنگانہ کابینہ اور اسمبلی و کونسل کا آج خصوصی اجلاس

   

طبقاتی سروے اور ایس سی زمرہ بندی کو منظوری، اسمبلی میں مباحث کے ذریعہ بی سی تحفظات کا تعین
حیدرآباد ۔3۔فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کا خصوصی اجلاس کل 4 فروری کو 11 بجے دن منعقد ہوگا جس میں طبقاتی سروے رپورٹ اور مجالس مقامی میں بی سی تحفظات کے مسئلہ پر مباحث ہوں گے۔ قبل ازیں صبح 10 بجے اسمبلی کے کمیٹی ہال میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر صدارت ریاستی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوگا۔ کابینی اجلاس میں طبقاتی سروے رپورٹ اور بی سی تحفظات کو منظوری دی جائے گی۔ اسمبلی اور کونسل میں بی سی تحفظات کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے منظوری کیلئے مرکز کو روانہ کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کے حق میں ایک سال قبل 4 فروری کو ریاستی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا۔ ٹھیک ایک سال بعد کل 4 فروری کو ریاستی کابینہ طبقاتی سروے رپورٹ کو منظوری دے گی۔ طبقاتی سروے سے متعلق کابینی سب کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ کو اسمبلی اور کونسل میں پیش کیا جائے گا ۔ دونوں ایوانوں میں مباحث کا حکومت کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ تلنگانہ پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے طبقاتی سروے کی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے۔ سروے کا مقصد تلنگانہ میں بی سی طبقات کی آبادی اور ان کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا ۔ رپورٹ میں بی سی طبقات کی آبادی 46.25 فیصد درج کی گئی ہے جبکہ مسلمانوں میں بی سی آبادی 10.08 فیصد ہے۔ بی سی طبقات اور مسلم بی سی طبقہ کو ملاکر جملہ بی سی آبادی 56.33 فیصد قرار پائی ہے۔ تلنگانہ حکومت مجالس مقامی اور پنچایت راج اداروں میں بی سی تحفظات میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے اور توقع ہے کہ ریاستی کابینہ 42 فیصد بی سی تحفظات کے حق میں فیصلہ کرے گی۔ کابینہ کے اجلاس میں ایس سی طبقات کی درجہ بندی سے متعلق جسٹس شمیم اختر ایک رکنی کمیشن کی رپورٹ کو منظوری دی جائے گی ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ نے ایس سی طبقات کی زمرہ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔ توقع ہے کہ اسمبلی اور کونسل میں طبقاتی سروے کے علاوہ ایس سی زمرہ بندی پر مباحث ہوں گے۔ ایک رکنی کمیشن نے اپنی رپورٹ کابینی سب کمیٹی کو پیش کردی ہے جس کے صدرنشین وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی ہیں۔ اسمبلی اور کونسل کا خصوصی اجلاس ایک دن کیلئے ہوسکتا ہے تاہم اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار کریں گے۔ حکومت فروری کے اختتام پر ریاست میں پنچایت راج اداروں کے انتخابات کا منصوبہ رکھتی ہے۔ توقع ہے کہ 15 فروری سے قبل اسٹیٹ الیکشن کمیشن انتخابی نوٹیفکیشن جاری کردے گا۔1