حیدرآباد۔9۔مئی ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ میں توسیع و تبدیلی کے سلسلہ میں جلد ہی کانگریس پارٹی ہائی کمان اقدامات کا آغاز کرے گی۔ کانگریس ہائی کمان جو کہ فی الحال کیرالہ اور تمل ناڈو میں تشکیل حکومت کے عمل سے گذ ررہی ہے اس عمل کی تکمیل کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ کے طویل عرصہ سے زیرالتواء امور کو مکمل کرنے کے اقدامات کا آغاز کرے گی ۔ذرائع کے مطابق ریاستی کابینہ میں تبدیلی اور توسیع کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کا آغاز کیا جائے گا اور جاریہ ماہ کے اختتام سے قبل کابینہ میں توسیع و کئی وزراء کے قلمدانوں کی تبدیلی کے عمل کو مکمل کرنے کے علاوہ پارٹی سطح پر ورکنگ پریسڈنٹ کے عہدہ پر تقررات و دیگر امور کو مکمل کرلئے جانے کا امکان ہے۔بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں پارٹی اور حکومت کے درمیان پائی جانے والی دوریوں کو ختم کرنے کیلئے بھی کانگریس ہائی کمان کی جانب سے سخت فیصلے کئے جانے کا امکان ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاست کی موجودہ کابینہ میں شامل بعض وزراء کو خارج کرتے ہوئے انہیں پارٹی کی اہم ذمہ داریاں تفویض کئے جانے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ‘ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک ‘ کیپٹن اتم کمار ریڈی کے علاوہ صدر پردیش کانگریس مسٹر بی مہیش کمار گوڑ کو دہلی طلب کرتے ہوئے پارٹی ہائی کمان ان سے تجاویز حاصل کرنے کے علاوہ اب تک موصول ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کرنے پر غور کرنے لگی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت کی کابینہ میں ردوبدل کے ساتھ پارٹی کے امور کو بھی مستحکم بنانے کے علاوہ انہیں بہتر بنانے کیلئے متعدد اقدامات کئے جائیںگے۔ پارٹی ہائی کمان کے ذرائع کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ کے امور پر پارٹی ہائی کمان کا یہ احساس ہے کہ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد پارٹی قائدین کی من مانی میں اضافہ ہوچکا ہے اسی لئے اب پارٹی ہائی کمان نے راست مداخلت کا فیصلہ کیا ہے اور اس بات کو واضح کردیا ہے کہ گذشتہ 2.5 برس کے دوران جن کابینی وزراء کی کارکردگی میں بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی ہے یا جن کے تعلق سے شکایات موصول ہوئی ہیں ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں ہٹایا جاسکتا ہے اور ان کے جگہ دوسرے اراکین اسمبلی کو موقع فراہم کیا جاسکتا ہے۔بتایاجاتاہے کہ پارٹی قائدین نے ہائی کمان کے سرکردہ قائدین سے جو شکایات کی ہیں ان پر بھی اب کاروائیوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ غیرمصدقہ ذرائع کے مطابق ریاستی کابینہ میں شامل وہ وزراء جو بدعنوانیوں میں ملوث ہیں اور جو پارٹی سرگرمیوں کے علاوہ پارٹی قائدین و کارکنوں کے لئے وقت نہیں دے رہے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ کانگریس پارٹی ہائی کمان نے کیرالہ اور تمل ناڈوکی سیاسی مصروفیات کی تکمیل کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ کے امور کو حل کرنے پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست میں کانگریس پارٹی کے امور کے علاوہ حکومت کے امور میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے۔ ریاستی حکومت تلنگانہ میں ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات کے انعقاد سے قبل ریاست میں کابینہ میں مخلوعہ دو وزراء کی گنجائش کو مکمل کرنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے لیکن کانگریس ہائی کمان کی منظوری کے بعد ہی پردیش کانگریس اور حکومت تلنگانہ اس سلسلہ میں پیشرفت کرے گی۔3/A/b