دو متحارب گروپس ہائی کمان سے رجوع ۔ اپنے اپنے موقف پر اٹل رہنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔یکم۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس اور حکومت میں پیدا اختلافات سے متعلق تمام تر سرگرمیاں دہلی منتقل ہوچکی ہیں ۔ کہا جارہاہے ہائی کمان پارٹی میں ناراضگیوں کو دور کرنے اقدامات کو تیز کرکے پارٹی کی ساکھ کو متاثر ہونے سے بچانے میں مصروف ہے ۔ تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار کے 1000 دن مکمل ہونے کے باوجود ریاست میں کوئی جشن کا ماحول تو نظر نہیں آرہا ہے لیکن مخالف حکومت سرگرمیوں اور حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پارٹی میں اختلافات کو دور کرنے کی متعدد کوششوں میں ناکامی کے بعد اب یہ سرگرمیاں دہلی میں ہائی کمان کے پاس منتقل ہونے لگی ہیں ۔ کونڈا سریکھا اور ڈاکٹر جی چنا ریڈی جنہیں پارٹی کے ریاستی تادیبی کمیٹی کے ذمہ داروں نے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش پیش کردی تھی لیکن ان سفارشات پر پارٹی نے کوئی کارروائی نہ کرکے یہ پیغام دے دیا ہے کہ پارٹی کو اگر کارروائی کرنی ہے تو پارٹی حکومت کے دباؤ میں کام کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے کارکنوں وقائدین کی حوصلہ شکنی کے حق میں نہیں ہے۔ دہلی میں سرگرمیوں کی منتقلی کے بعد حکومت کے ذمہ داروں نے بھی اپنے موقف کو پیش کرنے دہلی کا رخ کرنا شروع کردیا ہے جبکہ کونڈا سریکھا اپنے موقف کی وضاحت کیلئے دہلی میں اعلیٰ پارٹی قائدین سے ملاقات کیلئے روانہ ہوچکی ہیں۔ڈاکٹر جی چنا ریڈی ناب صدرنشین منصوبہ بندی کمیشن بھی مخالف حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں اسی لئے انہیں بھی عہدہ سے ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے اور وہ اب بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔پارٹی حلقوں میں حکومت اور دو علحدہ گروپس میں رسہ کشی کے دوران کوئی بھی قائد کسی ایک گروپ کا حصہ بننے آمادہ نہیں ہے اور کانگریس کے حقیقی قائدین کا کہناہے کہ اعلیٰ کمان جو فیصلہ کرتی ہے اس کا احترام کیا جائے گا اور انہیں امید ہے کہ ہائی کمان حقیقی کانگریسی قائدین کی شکایات کو نظر انداز کرکے کوئی فیصلہ نہیں کرے گی کیونکہ اب اسمبلی انتخابات کیلئے محض 2سال کا عرصہ رہ گیا ہے اگر اسی طرح ریاستی معاملات کو نظرانداز کرکے حکومت چلائی جاتی ہے اور پارٹی کے استحکام پر توجہ دینے کے بجائے ناراضگیوں کو دور کرنے میں ہی وقت ضائع کیا جاتا ہے تو اس کے منفی تنائج کا خدشہ ہے اسی لئے سینیئر کانگریس قائدین اپنے مسائل سے اعلیٰ کمان قائدین کو واقف کرواکر حالات کے بہتر ہونے کی امید کے ساتھ انتظار میں ہیں جبکہ دوسراگروپ جو پارٹی اصولوں اور سینیئر قائدین کو نظرانداز کرنے کا مرتکب بن رہا ہے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعہ اعلیٰ قائدین پر دباؤ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔3/k/b