کمزور اپوزیشن کے باوجود اختلافات، قائدین کو اتحاد کا درس : مانک راؤ ٹھاکرے
حیدرآباد۔/11جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کے نئے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے کو ہائی کمان نے قائدین کے اختلافات کی یکسوئی اور اتحاد قائم کرنے کیلئے بھیجا ہے لیکن پہلی مرتبہ حیدرآباد آمد کے بعد مانک راؤ ٹھاکرے تلنگانہ کانگریس میں اختلافات اور گروپ بندیوں سے خود حیرت زدہ ہیں۔ مانک راؤ ٹھاکرے مہاراشٹرا میں 4 سال تک پردیش کانگریس کے صدر رہے اور وہ اسمبلی اور کونسل کا وسیع تر تجربہ رکھتے ہیں ۔ تاہم انہیں کسی ریاست کے انچارج کی حیثیت سے پہلی مرتبہ تنظیمی ذمہ داری دی گئی۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے تلنگانہ انچارج کیلئے کرناٹک کے سینئر قائدین ایچ کے پاٹل کے حق میں تھے لیکن سونیا گاندھی نے ٹھاکرے کے نام کو منظوری دی۔ مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے مانک راؤ ٹھاکرے نے آج حیدرآباد میں آمد کے پہلے دن کئی اہم قائدین سے ملاقات کی۔ یوں تو نئے انچارج سے قائدین کی ملاقات پہلی مرتبہ رسمی اور تعارفی طرز کی ہوتی ہے لیکن تلنگانہ قائدین نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے اختلافات اور ناراضگیوں کا اظہار کرتے ہوئے ٹھاکرے کو حیرت میں ڈال دیا کیونکہ تلنگانہ میں اپوزیشن میں رہنے کے باوجود قائدین میں گروپ بندیاں ہیں جبکہ عام طور پر اقتدار میں گروپ ازم دیکھا جاتا ہے۔ ٹھاکرے نے تمام قائدین کو اتحاد کا درس دیا اور ساتھ میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کانگریس کی حالت تلنگانہ میں مہاراشٹرا سے زیادہ توجہ کی طالب ہے۔ گذشتہ آٹھ برسوں سے کانگریس اپوزیشن میں ہے اور اسمبلی میں محض 4 ارکان کے سبب اہم اپوزیشن کا موقف بھی حاصل نہیں ہوا۔ 2014 اور 2018 انتخابات کے بعد پارٹی ارکان کے بی آر ایس میں انحراف کو روکنے میں بھی تلنگانہ قائدین ناکام رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مانک راؤ ٹھاکرے ہائی کمان کو کیا رپورٹ دیں گے۔ر