تلنگانہ کا ریاستی بجٹ 3 لاکھ کروڑ روپئے سے تجاوز کرسکتا ہے

   

گذشتہ سال 2.91 لاکھ کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا، ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارکابجٹ تیاری میں مصروف
حیدرآباد ۔ 27 ۔ فبروری ( سیاست نیوز ) ماہرین اندازہ لگارہے ہیں مالیاتی سال 2025-26 کیلئے تلنگانہ کا بجٹ لگ بھگ 3.20 لاکھ کروڑ روپئے کا ہوسکتا ہے ۔ گزشتہ سال حکومت نے 2.91 لاکھ کروڑ روپئے کا مجموعی بجٹ پیش کیا تھا ۔ اس سال اس سے زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنا بھاری بجٹ ہوگا ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ حکومت فلاحی اسکیمات ، ترقیاتی پروگرامس اور قرضوں پر بھاری سود کی ادائیگی کیلئے فنڈز مختص کرنے منصوبے تیار کررہی ہے ۔ 6 گیارنٹیز میں سوائے ایک دو کے باقی تمام وعدوں پر عمل ہورہا ہے ۔ موجودہ اسکیمات کی برقراری ، نئی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے بجٹ مختص کیا جارہا ہے ۔ چیوتا پنشن ، مہا لکشمی اسکیم کا حصہ بننے والی خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے جیسی اسکیمات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ کانگریس کو اقتدار ملنے کے بعد ایک بار الحساب ون ان اکاونٹ بجٹ اور پھر مکمل بجٹ پیش کیا گیا ۔ حکومت اس مرتبہ مکمل بجٹ پیش کرنے تیاری کررہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ملوبٹی وکرامارک اعلی عہدیداروں کا اجلاس طلب کرکے متعلقہ محکمہ جات کے تخمینوں، ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر تفصیلات طلب کررہے ہیں ۔ مارچ کے تیسرے ہفتہ میں گورنر کے خطبہ کے بعد بجٹ سیشن کا آغاز ہوگا ۔ متحدہ آندھراپردیش میں آخری بجٹ 2013-14 میں 1,36,629 کروڑ کا مجموعہ بجٹ پیش کیا گیا تھا جس میں تلنگانہ کا 42 فیصد حصہ کے ساتھ 56,947 کروڑ روپئے کہا جاسکتا ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش کے بجٹ کو مالیاتی سال 2018-19 میں تلنگانہ نے پیچھے چھور دیا تھا ۔ ہر سال ریاست کی آمدنی اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ جی ایس ڈی پی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ سوائے نان ٹیکس ریونیو کے کانگریس حکومت میں تمام محکمہ جات کی آمدنی میں کوئی بڑی کمی نظر نہیں آئی ۔ اس سال آمدنی گزشتہ سال کی سطح پر جاری ہے ۔ رواں مالیاتی سال کیلئے حکومت کا تخمینہ جنوری کے اواخر تک 1,82,437 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ تخمینہ لاگت کا 66.57 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.8 فیصد کم ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آمدنی میں کمی کی وجہ نان ٹیکس ریونیو میں کمی ہے ۔ فبروری اور مارچ میں کم از کم 15 تا 18 فیصد زیادہ ریونیو حاصل ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ محکمہ فینانس کا ماضی ریکارڈ یہ واضح کرتا ہے کہ زیادہ تر ادائیگیاں مالی سال کے اختتام پر کی جاتی ہیں ۔ پچھلے 10 سال آمدنی کی اوسط 82 فیصد رہی ہے ۔ گزشتہ 3 سال کے گورنمنٹ بجٹ کی اصل آمدنی کی تفصیلات کا جائزہ لیں تو یہ صرف 79 فیصد ہے ۔ محکمہ فینانس کے عہدیدار بتارہے ہیںکہ اس سال بھی حکومت کی آمدنی میں کمی کا کوئی امکان نہیں ۔ 2