تلنگانہ کو فرینڈلی انڈسٹریل اسٹیٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی

   

ریاست کو تین کلسٹرس میں تقسیم کرتے ہوئے حیدرآباد کے طرز پر دیہی علاقوں کو ترقی دینے میگا ماسٹر پالیسی سازی
حیدرآباد ۔ 6 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ کو تلنگانہ فرینڈلی انڈسٹریل اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میگا ماسٹر پالیسی 2050 کا نشانہ مختص کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ دو دن تک دہلی میں مصروف ترین دن گذارنے والے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج سکریٹریٹ میں مختلف محکمہ جات کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مختلف امور کا جائزہ لیا۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) کے نمائندوں کے ساتھ بھی ایک اجلاس طلب کیا، جس میں 1994ء سے 2004ء تک علاقہ تلنگانہ میں صنعتوں کی ترقی 2004ء تا 2014ء تک صنعتی ترقی کیلئے اپنائی گئی پالیسی کا جائزہ لینے مستقبل کی حکمت عملی پر ماسٹر پلان پر غور کیا گیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت صنعتوں کی ترقی کیلئے سرمایہ کاروں کو دعوت دے گی اور ساتھ ہی ایک صنعتی نئی دوستانہ پالیسی پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے معاملے میں کسی کو بھی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ تلنگانہ میں صنعتکاروں کے ذریعہ کی گئی سرمایہ کاری کے ہر ایک پیسہ کی مکمل حفاظت کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس حکومت دیہی علاقوں کے عوام کی فلاح و بہبود اور دیہی علاقوں کے مفادات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک نئی صنعتی پالیسی پر عمل کرے گی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ صنعتی ترقی صرف حیدرآباد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ تلنگانہ کے تمام علاقوں کو حیدرآباد کی طرح ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو دیہی علاقوں تک توسیع دینے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جائیں گے۔ دیہی علاقوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کو شہروں اور قصبوں میں ہونے والی ترقی اور سرمایہ کاری کے ثمرات سے منسلک کیا جائے گا۔ صنعتی شعبہ کے ساتھ تمام شعبوں کو ترقی دینے کیلئے فرینڈلی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔ اس پالیسی کے ایک حصہ کے طور پر تلنگانہ کو تین کلسٹری میں تقسیم کیا جائے گا۔ حیدرآباد آوٹر رنگ روڈ (ORR) کے اندر ایک شہری کلسٹر۔ ORR اور ریجنل رنگ روڈ کے درمیان کا علاقہ نیم شہری کلسٹر کے طور پر اور ریجنل رنگ روڈ کے بعد آس پاس کے علاقہ کو بطور دیہی کلسٹر کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ فارماسٹی کے تعلق سے حکومت کی واضح پالیسی ہے۔ وہ فارماسٹی کے بجائے فارما ولیج تیار کریں گے۔ آوٹر رنگ روڈ پر 14 ریڈ بل روڈس ہیں ان کے لئے 12 قومی شاہراہوں کی سڑکیں اور کنکٹویٹی ہے۔ ان تک رسائی کیلئے تقریباً 1000 تا 3000 ایکڑ اراضی پر مشتمل ایک فارما ولیج تیار کیا جائے گا۔ عوامی زندگیوں کو کسی تکلیف کے بغیر آلودگی سے پاک صنعتوں کے قیام کے ساتھ اسکولس، ہاسپٹلس اور دیگر تمام انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ظہیرآباد میں آئی ٹی۔ فارما اور ہیلتھ کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ اسپورٹس، آٹو موبائیل اور آرگینگ کلسٹر کے طور پر صنعتیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں دفاعی شعبے اور بحری شعبے کیلئے درکار آلات کی تیاری اور پیداوار کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ صنعتکاروں کو ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نئی سولار پاور پالیسی تیار کی جائے گی اور شمسی توانائی کی صنعتوں کو مناسب مراعات فراہم کی جائیں گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ سکریٹریٹ اور کیمپ آفس میں 24 گھنٹے ہر ایک کیلئے دستیاب رہیں گے۔ صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو ان سے راست بات چیت کرنے کی دعوت دی۔ 2