اپریل سے اگست تک غیر ٹیکس آمدنی، تنخواہوں کی ادائیگیوں میں ا ضافہ
ریاستی آمدنی اور اخراجات میں کمی، کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ یکم اکتوبر (سیاست نیوز) مرکز سے ریاست کو گرانٹس کی شکل میں ملنے والے فنڈز میں زبردست کمی آئی ہے۔ گزشتہ مالیاتی سال (2023-24) کے پہلے 5 مہینوں (اپریل تا اگست) کے دوران مرکز سے 3,009.26 کرور روپئے موصول ہوئے تھے جبکہ جاریہ مالیاتی سال 542 کروڑ روپئے کم وصول ہوئے ہیں۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے ۔ گزشتہ سال غیر ٹیکس آمدنی جو کے ارا ضیات کے فروخت اور آؤٹر رنگ روڈ کے ٹنڈرس سے پہلے 5 ماہ میں 14,482 کروڑ روپئے تھی، اس سال کم ہوکر 13,300 کروڑ روپئے تک محدود ہوگئی۔ جی ایس ٹی ، رجسٹریشن ، ویاٹ اور مرکزی ٹیکسوں میں ریاستی حصہ داری کے تحت ہونے والی آمدنی میں نمایاں ا ضافہ ہوا ہے ۔ مرکز سے گرانٹس ، ایکسائیز ڈیوٹی اور نان ٹیکس ریونیو میں کمی کی وجہ سے مجموعی مالیاتی خسارہ بڑھ گیا جس کے نتیجہ میں 29,449.94 کروڑ روپئے کے نئے قرض حاصل کرنا پڑا۔ حکومت نے ریاستی بجٹ میں مالیاتی خسارے کا تخمینہ 49,255 کروڑ روپئے لگایا ہے ۔ اس تخمینہ کا 59.79 فیصد پہلے 5 ماہ میں ریکارڈ کیا گیا ۔ گزشتہ مالیاتی سال خسارے کا تخمینہ 56.062 کروڑ روپئے لگایا تھا اور اس کا 46.66 فیصد پہلے 5 مہینوں میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رجسٹریشن کے ذریعہ گزشتہ سال کے مقابلے اس بار 538 کروڑ روپئے کی ا ضافی آمدنی ہوئی ہے ۔ پچھلے سال کے 5 مہینوں میں 8851.71 کروڑ روپئے پرانے بقایاجات پر بطور سود ادا کئے گئے تھے اور اس سال 10497.52 کروڑ روپئے جاری کرنا پڑا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں کیلئے گزشتہ سال 16937 کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے جبکہ جاریہ سال18152کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔گذشتہ سال پنشن کی ادائیگی کیلئے6973کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے جاریہ سال یہ بڑھ گئے اور 7165 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ ا ہم فلاحی اسکیمات کیلئے جاری کردہ سبسیڈی کی رقم 4014 کروڑ سے بڑھ کر 5398 کروڑ روپئے ہوگئی ہے ۔ 2