تلنگانہ کی ترقی و مفادات کا تحفظ چیف منسٹر کی ذمہ داری

   

میدی گڈہ بیاریج کے تعمیری کام شروع کرنے ہریش راؤ کا مطالبہ
حیدرآباد۔9۔مئی ۔ (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو ریاست کے مفادات اور مسائل کے حل سے زیادہ سیاست کی فکر لاحق ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ حکمرانی کے بجائے اقتدار میں آنے کے بعد بھی سیاست میں مصروف ہیں۔سابق ریاستی وزیر و رکن اسمبلی مسٹر ٹی ہریش راؤنے آج چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ انہیں اور ان کی پارٹی کو اقتدار حاصل ہوچکا ہے اور اب تلنگانہ کی ترقی اور اس کے مفادات کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے۔مسٹر ٹی ہریش راؤ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ ترک کرے اور میدی گڈہ بیاریج کے تعمیراتی کاموں کو فوری شروع کرتے ہوئے کالیشورم پراجکٹ کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔سابق ریاستی وزیر نے کہا کہ حکومت تلنگانہ تما دیہڈی پراجکٹ پر 11 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جانے کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت محض پروپگنڈہ کے ذریعہ تلنگانہ عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کو سیاست سے بالاتر ہوکر ریاست کے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات کو تیز کرنا چاہئے اور تلنگانہ کے آبپاشی پراجکٹس کو خشک ہونے سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی عوام کو گمراہ کرنے کے لئے اپوزیشن جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرامہ بازی میں مصروف ہے جبکہ اپوزیشن ریاست کے عوام بالخصوص آبپاشی پراجکٹس کی عدم تکمیل کے سبب ہونے والی مشکلات کے علاوہ غیر موسمی بارش کے نتیجہ میں تباہ ہونے والی فصلوں اور دیگر مسائل پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے حکومت کو انہیں حل کرنے کا مشورہ دیا لیکن ریاستی حکومت ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات کے بجائے بھارت راشٹریہ سمیتی قائدین پر الزامات عائدکرتے ہوئے اپنے ڈھائی سال کی معیاد مکمل کرلی ہے اورآئندہ بھی اسی روش پر گامزن رہنے والی ہے۔3/A/b