چیف منسٹر کا وزیر صنعت و عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس ۔ مختلف ہدایات
حیدرآباد۔21۔ مئی ۔(سیاست نیوز) حکومت ریاستی صنعتی پالیسی میں ترمیم کے ذریعہ اسے عالمی معیار کی پالیسی بنانے اقدامات کرے گی تاکہ عالمی سطح پر صنعتی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ مسابقت کی جاسکے اور صنعتی اداروں کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے ۔چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج وزیر صنعت مسٹر ڈی سریدھر بابو اور محکمہ صنعت کے عہدیداروں و تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس منعقد کرکے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ نئی صنعتی پالیسی ملک میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے اختتام سے قبل تیار کرکے حکومت کو پیش کریں تاکہ حکومت اس کا جائزہ لے کر انتخابات کے بعد اسے نافذ کرنے اقدامات کرسکے۔چیف منسٹر نے جائزہ اجلاس میں ہینڈ لوم اور پاؤر لوم کے استعمال کے سلسلہ میں موجودہ پالیسی کی جگہ نئی پالیسی کی تیاری کے علاوہ 6نئی صنعتی پالیسیوں کی تیاری کی ہدایت دی جن میں ایم ایس ایم ای پالیسی ‘ گرین انرجی پالیسی ‘ میڈیکل ٹورازم پالیسی ‘ ایکسپورٹ پالیسی ‘ نیو لائف سائنس پالیسی کے علاوہ الکٹرک وہیکل پالیسی میں ترمیم کے بعد قطعی پالیسی تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ریونت ریڈی نے عہدیداروں سے موجودہ صنعتی پالیسیوں کے متعلق استفسار کیا اور ہینڈ لوم پالیسی کے علاوہ پاؤر لوم کے استعمال کی پالیسی کے متعلق تفصیلات حاصل کرکے ہینڈ لوم کی جگہ پاؤر لوم کے استعمال کی پالیسی کے متعلق دریافت کیا۔ اجلاس میں عہدیداروں نے بتایاکہ حکومت کی صنعتی پالیسی کس طرح سے کام کر رہی ہے اور تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل افراسٹرکچر کارپوریشن اس پالیسی کو کس طرح قابل عمل بنانے سرگرم ہے ۔ چیف منسٹر نے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ نئی پالیسی کی تیاری میں عالمی سطح مختلف ممالک کی بہترین صنعتی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ریاستی پالیسی تیار کریں تاکہ ملک بھر میں ریاست کی بہترین پالیسی کو یقینی بنایا جاسکے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت سے اب تک اجلاسوں کے فیصلہ کے مطابق 6 نئی پالیسیوں کی تیاری کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور جلد ہی نئی پالیسی تیار کرکے حکومت کو پیش کی جائے گی ۔3