گذشتہ سال کی بہ نسبت 5 فیصد کا اضافہ اسٹیٹس آف انڈیا کی تازہ رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ میں کوئی بھی دعوت ، تقریب اور پروگرام کیوں نہ ہو دعوت کے مینو میں نان ویج مٹن یا چکن یا دونوں ہونا ضروری ہوگیا ہے ۔ زیادہ تر لوگ تلنگانہ میں نان ویج کھا رہے ہیں ۔ اس کے بغیر حلق سے نوالہ نہیں اتر رہا ہے ۔ اسٹیٹس آف انڈیا کی تیار کردہ تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تلنگانہ کی 96 فیصد آبادی گوشت خور ہے ۔ ملک میں اوسطاً ہر 100 افراد میں 70 افراد نان ویجیٹرین ہیں جب کہ تلگو ریاستوں میں صرف 4 فیصد افراد سبزی خور ہیں ۔ ماباقی 96 افراد گوشت کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اسٹیٹس آف انڈیا یا ادارے نے ملک بھر کی تمام ریاستوں میں گوشت کی خریداری ، گوشت کی مصنوعات ، کھانے کی عادت اور سبزی خوروں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہے ۔ اس سلسلہ میں 18 تا 49 سال عمر کے مردوں اور خواتین کے ساتھ ایک سروے کیا گیا تو یہ واضح ہوا کہ 96 فیصد تلگو عوام گوشت خور ہیں ۔ تلنگانہ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں گوشت خوروں کی تعداد میں پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ہندوستان کے اعداد و شمار قومی خاندان اور صحت کے مطالعہ کو ایک معیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یہ سروے کیا گیا اس رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ دونوں تلگو ریاستوں میں گوشت کھانے والوں کی تعداد قومی اوسط سے 20 فیصد زیادہ ہے ۔ملک میں گوشت کی کھپت میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔ سال 2015-16 میں 74 فیصد گوشت خور تھے ۔ 2019-21 کے دوران اس میں 4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس حساب سے گذشتہ تین سال میں گوشت خوروں کی تعداد میں 5 تا 8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ملک بھر میں اوسطاً 77 فیصد لوگ چکن ، مٹن ، مچھلی اور دیگر گوشت کھاتے ہیں ۔ تلگو ریاستوں میں یہ تعداد 96 فیصد ہے ۔ گوشت کھانے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمی ہورہی ہے ۔ ہفتہ میں ایک دن بھی گوشت نہ کھانے والی خواتین کی تعداد 39 فیصد ہے ۔ وہی ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ گوشت کھانے والے مردوں کی تعداد 49 فیصد ہے ۔ زیادہ تر لوگ اپنے کھانوں میں گوشت کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔ 2