ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے تحت تلنگانہ بنے گا حقیقی ڈیجیٹل،پہلے مرحلہ میں 3089 دیہاتوں کا احاطہ
حیدرآباد ۔27۔ مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کو حقیقی معنوں میں ایک ڈیجیٹل ریاست بنانے اور دیہی علاقوں تک بلا تعطل تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے کے عزم کے ساتھ حکومت نے ایک بڑے اور انقلابی اقدام کا آغاز کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت ڈی سریدھر بابو نے مرکزی وزیر مواصلات جیوتر ادتیہ سندھیا کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں شرکت کی جس میں مرکز کے ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام (ABP) کے تحت تلنگانہ میں ٹی فائبر پراجکٹ کے موثر نظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہر گاؤں اور ہر گھر تک ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کے ریاستی ویژن کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مرکز اور ریاست کے درمیان مضبوط تال میل پر اتفاق کیا گیا اور مرکزی وزیر نے تلنگانہ کے اس بڑے منصوبہ کیلئے ہر ممکن تعاون کا بھرپور یقین دلایا ۔ چیف منسٹر نے ویڈیو کانفرنس کے دوران ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے آسان اور تیز رفتار نفاذ کیلئے چند کلیدی مسائل مرکزی وزیر جیوتر ادتیہ سندھیا کی توجہ میں لائیں۔ انہوں نے پراجکٹ میں عمل درآمد سے متعلق باہمی معاہدہ کو جلد سے جلد حتمی شکل دینے اور مرکز کی جانب سے زیر التواء فنڈس کے فوری اجرائی کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے گرام پنچایت رنگ نیٹ ورک کے اثاثوں کو منڈل سطح سے مرکزی ڈیجیٹل بھارت فنڈ (DBF) میں منتقل کرنے کیلئے ایک واضح اور جامع پالیسی وضع کرنے کا مطالبہ کیا جس پر مرکزی وزیر نے انتہائی مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا تیقن دیا۔ اس میٹنگ میں چیف سکریٹری راما کرشنا راؤ ، چیف منسٹر کے اسپیشل سکریٹری اجیت ریڈی اور محکمہ آئی ٹی کے جوائنٹ سکریٹری ڈی اندیپ کے علاوہ دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے ایک مضبوط اور جدید ترین نیٹ ورک کے قیام کیلئے اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) کی منظوری دی گئی جو مرکز کے ساتھ حتمی معاہدہ کے بعد ریاست میں ایک متحد ڈیجیٹل ہیڈی کا کام کرے گی۔ اس پراجکٹ کے تحت ڈی فائبر نیٹ ورک کے ذریعہ ریاست کی ہر گرام پنچایت کو ایک جدید رنگ آرکیٹکچر کے ذریعہ جوڑا جائے گا۔ اس جدید ترین ٹکنالوجی کی خاصیت یہ ہے کہ اگر کسی ایک روٹ یا لائین میں کوئی ٹکنیکل خلل یا خرابی پیدا ہوتی ہے تب بھی متبادل راستہ سے انٹرنیٹ خدمات بغیر کسی رکاوٹ کے خود بخود جاری رہے گی جس سے تلنگانہ کے عوام کو اسکول اور سرکاری دفاتر کو 24 گھنٹے بلا تعطل ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ حاصل ہوگا۔پراجکٹ کے پہلے مرحلہ کے تحت حکومت نے ان علاقوں پر توجہ مرکوز کی ہے جہاں ماضی میں نیٹ ورک متاثر ہوا تھا۔ پہلے مرحلہ میں متحدہ اضلاع نظام آباد ، رنگا ریڈی اور کھمم کے 3089 گاؤں میں ڈیجیٹل کنکٹیویٹی کو مکمل طور پر بحال اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے تحت ان تمام دیہاتوںکو ریاست کے دیگر شہری حصوں کے برابر لاتے ہوئے مستقبل کی ضروریات سے لیس جدید ترین فائبر انفراسٹرکچر سے آراستہ کیا جائے گا۔ حکومت کا یہ اقدام دیہی معیشت تعلیم اور اور آن لائین گورننس کے شعبہ میں ایک نیا اور تاریخی انقلاب برپا کرے گا۔2/k/m/b