تلنگانہ کے سہ رخی مقابلے میں بی آر ایس کا صفایا

   

7 حلقوں میں ڈپازٹ سے محروم ،14 حلقوں پر تیسرا ، 2 حلقوں اور حیدرآباد میں چوتھا مقام
اسمبلی کی بہ نسبت لوک سبھا انتخابات میں گلابی پارٹی 51 لاکھ ووٹوں سے محروم
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد اقتدار سے محروم ہونے والی بی آر ایس لوک سبھا انتخابات میں صفایا ہوجانے کے بعد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئی ہے ۔ بی آر ایس ریاست کے 17 لوک سبھا حلقوں میں ایک حلقہ پر بھی کامیاب نہیں ہوئی ۔ 2 حلقوں میں دوسرے مقام اور 14 حلقوں میں تیسرے مقام تک محدود رہی اور حیدرآباد میں بی آر ایس چوتھے مقام پر پہونچ گئی ۔ 7 لوک سبھا حلقوں میں بی آر ایس ڈپازٹ نہیں بچا سکی ۔ ریاست میں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس ۔ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان سہ رخی مقابلہ رہا ہے ۔ حلقہ جات ( کھمم اور محبوب آباد ) میں بی آر ایس دوسرے مقام پر رہی لوک سبھا حلقوں نظام آباد ، ظہیر آباد ، عادل آباد ، حیدرآباد ، چیوڑلہ ، ملکاجگیری اور محبوب نگر میں بی آر ایس ڈپازٹ بھی حاصل نہیں کرپائی ۔ 14 حلقوں پر بی آر ایس تیسرے مقام پر رہی ۔ ووٹوں کے حصول میں بھی بی آر ایس پارٹی کو بہت بڑا دھکہ لگا ہے ۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں حاصل کردہ ووٹوں میں نصف ووٹ حاصل کرنے میں بھی بی آر ایس ناکام رہی ۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں 39 ارکان اسمبلی کے ساتھ جملہ ہوئی رائے دہی کے 37.35 فیصد 85.53 لاکھ ووٹ حاصل کی تھی ۔ فی الحال لوک سبھا انتخابات میں 16.68 فیصد تقریبا 36.38 لاکھ ووٹ تک محدود رہی ۔ چند ماہ کے دوران ہی بی آر ایس 60 فیصد 51.48 لاکھ ووٹوں سے محروم ہوگئی ۔ ٹی آر ایس پارٹی کی تشکیل سے 24 سالہ بی آر ایس کے سفر تک بی آر ایس پارٹی پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میںنمائندگی سے محروم ہوگئی ہے ۔ تلنگانہ تحریک سے حلقہ لوک سبھا میدک پارٹی کا طاقتور گڑھ تصور کیا جاتا ہے ۔ جہاں سے بھی بی آر ایس کو شکست ہوئی ہے جب کہ بی آر ایس پارٹی کو اس حلقہ سے کافی توقعات تھی کیوں کہ حلقہ لوک سبھا میدک کے حدود میں 7 کے منجملہ 6 اسمبلی حلقوں پر بی آر ایس کی نمائندگی ہے جس میں کے سی آر کا حلقہ گجویل اور ہریش راؤ کا حلقہ سدی پیٹ بھی شامل ہے ۔ باوجود اس کے اس لوک سبھا حلقہ میدک میں بی آر ایس کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے ۔ جہاں سے بی جے پی کے امیدوار این رگھونندن راؤ کو کامیابی حاصل ہوئی جب کہ کانگریس پارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے ۔ اس حلقہ پر کے سی آر اور ہریش راؤ کا اثر و رسوخ بھی پارٹی کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوا ہے ۔ اس حلقہ پر بی آر ایس پارٹی نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ۔ بس یاترا ، روڈ شو کرنے کے باوجود پارٹی کے لیے نتیجہ مایوس کن ثابت ہوا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے بی آر ایس کے حلقوں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے ۔ اصل اپوزیشن کا موقف رکھنے کے باوجود بی آر ایس نے ایک حلقہ پر بھی کامیابی حاصل نہیں کرپائی ہے ۔ کنٹونمنٹ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں بھی بی آر ایس کو شکست ہوگئی ہے جب کہ اسمبلی کے عام انتخابات میں اس حلقہ سے بی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ کار حادثہ میں رکن اسمبلی لاسیانندیتا کی ہلاکت کے بعد منعقد ہوئے ضمنی انتخاب میں بی آر ایس پارٹی نے ان کی بہن کو امیدوار بنایا تھا جس میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ بی جے پی دوسرے نمبر پر پہونچ گئی جب کہ بی آر ایس کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے ۔۔ 2