تلنگانہ ہائیکورٹ کے 6 نئے ججس کی حلف برداری

   

ججس کی تعداد 34 ہوگئی، چیف جسٹس اجل بھوئیاں نے حلف دلایا

حیدرآباد ۔16۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کے 6 نئے ججس نے آج حلف لیا۔ چیف جسٹس اجل بھوئیاں نے نئے ججس کو ہائی کورٹ میں منعقدہ تقریب میں حلف دلایا۔ ای وی وینو گوپال ، نگیش بھیما پاکا، پی کارتک ، کے شرد، جے سرینواس راؤ اور این راجیشور راؤ کو حلف دلایا گیا جن میں سرینواس راؤ اور راجیشور راؤ نے ایڈیشنل ججس کا حلف لیا۔ سینیاریٹی کی بنیاد پر دو برس بعد ایڈیشنل ججس کو مستقل ججس کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ 6 نئے ججس کے اضافہ کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ میں ججس کی تعداد بڑھ کر 34 ہوچکی ہے۔ جن میں دو ایڈیشنل ججس شامل ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کیلئے جملہ 42 ججس کی منظوری دی گئی ہے اور مزید 8 ججس کے تقررات باقی ہیں۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 6 ایڈوکیٹس کو ججس مقرر کرنے مرکزی حکومت کی تجویز کو منظوری دے دی جس کے بعد 12 اگست کو مرکز کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی زیر قیادت سپریم کورٹ کالجیم نے 25 جولائی کو نئے ججس کے تقررات کی سفارش کی تھی۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس تلنگانہ اجل بھوئیاں نے یوم آزادی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی کورٹ میں زیر التواء کیسس کی تعداد 2.4 لاکھ ہیں۔ جسٹس وینکٹ وینو گوپال کا تعلق کریم نگر ضلع سے ہے اور ان کے والدین ای وی راجیشور راؤ محکمہ ہینڈلوم و ٹیکسٹائل میں ڈپٹی ڈائرکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ رام جیٹھ ملانی کے جونیئر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ جسٹس نگیش بھیما پاکا کا تعلق بھدرا چلم سے ہے اور سابق رکن اسمبلی اور مجاہد آزادی بھوپتی راؤ کے فرزند ہیں۔ مختلف سرکاری محکمہ جات کے علاوہ جی ایچ ایم سی کے اسٹانڈنگ کونسل رہ چکے ہیں۔ جسٹس پی کارتک جگتیال ضلع سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 1996 ء میں ہائی کورٹ میں پریکٹس کی آغاز کیا ۔ جسٹس کے شرد بھدرا چلم سے تعلق رکھتے ہیں اور عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے اور آندھرا یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ عثمانیہ سے ایل ایل ایم کی تکمیل کے بعد 1997 ء میں بار کونسل سے وابستہ ہوئے۔ جسٹس سرینواس راؤ سرسلہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ عثمانیہ سے گریجویشن اور قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1999 ء میں ہائی کورٹ میں پریکٹس کا آغاز کیا۔ جسٹس این راجیشور راؤ محبوب آباد ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2001 ء میں ہائیکورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ ر