تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت کو نظر انداز کرنے پر جسٹس شراون کمار کی برہمی

   

اسپیشل چیف سکریٹری ‘کمشنر حیڈرا اور دیگر کو تحقیر عدالت کی نوٹس‘منگل کو حاضر ہونے کی ہدایت

فاطمہ اویسی ایجوکیشن کیمپس معاملہ

حیدرآباد۔8۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) فاطمہ اویسی ایجوکیشنل کیمپس سے متعلق تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایات کو نظر انداز کرنے پر جسٹس این وی شرون کمار نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ مقدمہ میں اسپیشل چیف سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق جئیش رنجن‘ کمشنر حیڈرا اے وی رنگاناتھ کے علاوہ محکمہ مال ‘ تعلیم کے عہدیداروں کیخلاف بھی تحقیر عدالت کی نوٹس جاری کی اور تمام کو 11اگسٹ منگل حاضر عدالت ہونے کی ہدایت دی ہے۔ہائی کورٹ میں مقدمہ نمبر 11130/2026 کی سماعت کے دوران فاطمہ اویسی اسکول بندلہ گوڑہ کی تعمیرات اور تالاب ’سلکم چیروو‘ کے معاملہ میں عدالت کیہدایات پر عدم عمل آوری کے متعلق دریافت کیا گیا اور استفسار کیا کہ آیا محکمہ جات سیاسی دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں!جسٹس این وی شرون کمار نے اس مقدمہ میں محکمہ جات کی جانب سے جواب داخل کئے جانے کے معاملہ میں کی جانے والی کوتاہی پر بھی سخت نوٹ لیتے ہوئے کہا کہ متعدد مرتبہ عدالت کے احکامات کو نظر انداز کئے جانے کے سبب عہدیداروں کو شخصی طو رپر حاضر عدالت ہونے کی ہدایت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مذکورہ مقدمہ میں عدالت نے ’سلکم چیروو‘ کے سروے کے علاوہ تعمیراتی اجازت ناموں کی اجرائی کے ذمہ دارعہدیداروں اور داخل کی گئی درخواستوں کے علاوہ دیگر تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن متعدد ہدایات کے باوجود متعلقہ محکموں نے احکامات کو نظرانداز کیا جس کو عدالت نے تحقیر عدالت تصور کرتے ہوئے عہدیداروں کو شخصی طور پر اس مقدمہ میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ درخواست گذار نے عدالت میں داخل کی گئی تحقیر عدالت کی درخواست میں الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت کے متعلقہ محکمہ جات عدالت کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے’سلکم چیروو‘ کے ممنوعہ فہرست میں ہونے کے باوجود جائیدادوں کے رجسٹریشن پر بھی کئی سوالات اٹھائے ہیں ۔جن کے جواب متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے عدالت میں پیش کرنے سے گریز کیا جا رہاہے۔ جسٹس این وی شرون کمار نے سماعت کے دوران عہدیداروں کی شخصی حاضری کے احکامات جاری کئے ہیں۔3