تلنگانہ ۔ آندھرا پانی کی جنگ

   

Ferty9 Clinic

لذتِ جنگ اور بڑھ جاتی
آپ کرتے جو کاوشِ آب
دوپڑوسی تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مابین پانی کے مسئلہ پر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔ آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے تلنگانہ کو اس کے جائز پانی سے محروم کرنے کیلئے اقدامات کی وجہ سے صورتحال میں ابتری پیدا ہوئی ہے اور حد تو یہ ہوگئی ہے کہ اب دونوں ہی ریاستوں کو اپنے اپنے حدود میں آبی اور برقی پراجیکٹ پر بھاری پولیس فورس کو متعین کرنا پڑا ہے ۔ تلنگانہ کی جانب سے دریائے کرشنا کے اپنے علاقوں میں آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر کی جا رہی ہے اور ہائیڈل برقی پیداوار کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں جس پر آندھرا پردیش کی جانب سے اعتراض کیا جا رہا ہے ۔ جگن موہن ریڈی کی حکومت نے ان پراجیکٹس کے خلاف مرکز سے بھی نمائندگی کی ہے حالانکہ تلنگانہ اپنے پانی کے جائز حصے کو استعمال کرتے ہوئے ان پراجیکٹس کی تعمیر عمل میں لا رہا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اپنی سرحدات میں پلی چنتلہ ‘ سری سیلم جورالا اور ناگرجنا ساگر پراجیکٹس پر پولیس کی بھاری جمیعت کو متعین کردیا گیا ہے ۔ اس کے جواب میں آندھرا پردیش کی جانب سے بھی پلی چنتلہ پراجیکٹ پر اپنی سرحدات میں پولیس فورس کو متعین کیا گیا ہے ۔ دونوں ہی جانب سے بھاری پولیس فورس کو متعین کرنے کے نتیجہ میںکشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ صورتحال ایسی ہے جو پڑوسی اور ایک زبان تلگو ریاستوں کے مابین پیدا نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ بھاری پولیس بندوبست کے دوران سپرنٹنڈنگ انجینئر پلی چنتلہ آندھرا پردیش نے ہائیڈرو الیکٹریکل پاور اسٹیشن کا دورہ کیا اور انہوں نے تلنگانہ جینکو کے عہدیداروں کو اس پراجیکٹ کے خلاف ایک یادداشت پیش کی ۔ آندھرا پردیش کا الزام ہے کہ تلنگانہ کی جانب سے کرشنا کے پانی میں اس کے حصے سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ تلنگانہ کا موقف یہ ہے کہ کرشنا کے پانی میں اس کا بھی حصہ ہے اور اسی حصے کو استعمال کیا جا رہا ہے یا اس کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ دونوں ریاستوں کے مابین کرشنا کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر اختلافات ابتداء سے ہیں اور کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ اتھاریٹی کی جانب سے ان کی یکسوئی کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مابین کرشنا کے پانی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہوئے ہوں ۔ در حقیقت 2015 میں ایسا ہوا تھا 2017 میں ہوا تھا اور اب 2021 میں بھی یہی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ ماضی میں بھی دونوں ریاستوں کی جانب سے ناگرجنا ساگر ڈیم کے مقام پر پولیس کو متعین کیا گیا تھا اور دونوں ریاستوں کی پولیس کے مابین ٹکراو کی کیفیت بھی پیدا ہوگئی تھی ۔ دونوں ریاستوں کے عہدیداروں نے ایک دوسرے کے خلاف شکایات بھی درج کروائی تھیں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مابین اصل تنازعہ آندھرا پردیش میں رائلسیما لفٹ اریگیشن اسکیم کی تعمیر اور تلنگانہ میں ہائیڈل پاور جنریشن کا ہے ۔ یہ تنازعہ گذشتہ دو ہفتوں سے بتدریج شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔تلنگانہ نے کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے خلاف شکایات درج کروائی ہیں ۔ علاوہ ازیں نیشنل گرین ٹریبونل میں بھی کیس درج کیا گیا ہے ۔ ٹریبونل نے آندھرا پردیش کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کام روک دے ۔ تلنگانہ آبپاشی حکام کا الزام ہے کہ آندھرا پردیش حکومت نے این جی ٹی کی ہدایت کے باوجود اپنے کام نہیں روکے ہیں۔ رائلسیما لفٹ اریگیشن اسکیم کے تعمیراتی کام روکنے کیلئے کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے بھی حالانکہ آندھرا پردیش حکومت کو واضح ہدایات جاری کی جا چکی تھیں۔
پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر اکثر و بیشتر دونوں ریاستوں میں تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ صورتحال کو کشیدگی اختیار کرنے سے بچایا جائے ۔ اس کیلئے جو ذمہ دار اتھاریٹی ہے اس کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کو اس کے پانی کے جائز حصے سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے ۔ جو ہائیڈل پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے وہ بھی ریاست کی برقی ضروریات کی تکمیل کیلئے اہمیت کا حامل ہے ۔ آندھرا پردیش کو بھی صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور دونوں پڑوسی ریاستوں کو ٹکراو کی کیفیت اختیار کرنے کی بجائے باہمی مشاورت سے مسئلہ حل کرنا چاہئے ۔ ٹکراو کسی بھی ریاست کے حق میں بہتر نہیں ہوسکتا اور اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کی خاطر سنجیدہ رویہ اختیار کیا جانا چاہئے ۔