ملازمین اور عہدیداروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں دشواریاں، بیشتر کیمرے غیر کارکرد
حیدرآباد۔/7 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حکومت نے جرائم کی روک تھام کیلئے ریاست بھر میں اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے ہیں لیکن پولیس اسٹیشنوں میں عہدیداروں اور ملازمین کے رویہ پر نظر رکھنے کیلئے نصب کردہ کیمرے زیادہ تر ناکارہ ہیں یا پھر کیمرے ہی نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے 50 فیصد سے زائد پولیس اسٹیشنوں میں سپریم کورٹ اور مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات کے باوجود سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کئے گئے۔ حیدرآباد، سائبرآباد اور راچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ میں یہی صورتحال ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس اسٹیشنوں کے اندرونی حصہ میں کیمروں کی تنصیب کے معاملہ میں عہدیداروں کی عدم دلچسپی دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ بعض پولیس اسٹیشنوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے لیکن مینٹننس نہ ہونے کے سبب وہ بہتر طور پر کام نہیں کررہے ہیں۔ حکومت نے ریاست بھر میں جرائم پر کنٹرول کیلئے عصری سہولتوں سے آراستہ پولیس کمانڈ کنٹرول کا آغاز کیا ایسے میں خود پولیس اسٹیشنوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے کیمروں کی کمی ہے۔ چند ماہ قبل بھونگیر ضلع کے اڈاگوڈو پولیس اسٹیشن میں ایک دلت خاتون کو سرقہ کے الزام میں لایا گیا تھا جہاں اسے اذیت دی گئی۔ اس معاملہ کی جانچ کے دوران پتہ چلا کہ پولیس اسٹیشن کے اندر موجود سی سی ٹی وی کیمرے غیرکارکرد ہیں۔ سوریا پیٹ ضلع کے آتما کور پولیس اسٹیشن میں ایک قبائیلی شخص پر پولیس عہدیدار کے حملہ کا معاملہ منظر عام پر آیا لیکن پولیس اسٹیشن میں موجود نہیں ہے۔ ریاست کے 700 سے زائد پولیس اسٹیشنوں میں جو لاء اینڈ آرڈر اور ٹریفک کے ہیں 300 سے زائد میں کیمرے موجود نہیں ہیں۔ حیدرآباد، سائبرآباد اور راچہ کنڈہ میں عہدیداروں نے ہر پولیس اسٹیشن میں کیمرے نصب کرنے کی تجویز رکھی ہے لیکن فنڈز کی کمی اور دیگر وجوہات کے سبب عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں نے کیمروں کی تنصیب کیلئے ہر ضلع کے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ر