برقی بقایا جات کا تنازعہ برقرار، ریلوے کوچ فیکٹری اورٹرائیبل یونیورسٹی پر ضروری کارروائی، پسماندہ اضلاع کیلئے فنڈز
حیدرآباد۔/27 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلگو ریاستوں کے درمیان زیر التواء مسائل کی یکسوئی کیلئے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے نئی دہلی میں آج اجلاس منعقد ہوا۔ مرکزی معتمد داخلہ نے اجلاس کی صدارت کی۔ برقی کے بقایا جات سے متعلق تنازعہ کی یکسوئی کے بغیر ہی اجلاس اختتام کو پہنچا اور تلنگانہ کی جانب سے پیش کئے گئے کئی مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ آندھرا پردیش حکومت نے دارالحکومت کی تعمیر کیلئے 1000 کروڑ کا مطالبہ کیا جس پر وزارت داخلہ نے کہا کہ اب تک 1500 کروڑ جاری کئے گئے اس کا حساب دیا جائے۔ دارالحکومت کیلئے شیورام کرشنن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق 29 ہزار کروڑ جاری کرنے آندھرا پردیش حکومت نے نمائندگی کی لیکن وزارت داخلہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ریاست کے ساتھ پسماندہ اضلاع کیلئے خصوصی فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی گئی۔ مرکزی وزارت داخلہ کے عہدیداروں نے کہا کہ شیلا بھیڈے کمیٹی نے اداروں کی تقسیم سے متعلق جو سفارشات پیش کی ہیں ان پر قانونی رائے حاصل کی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت نے کمیٹی کی بعض سفارشات سے اختلاف کیا ہے۔ آندھرا پردیش کے عہدیداروں نے کہا کہ مرکز اگر چاہے تو اس بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔ مرکزی عہدیداروں نے کہا کہ اس بارے میں قانونی رائے حاصل کی جائے گی۔ آندھرا پردیش فینانس کارپوریشن کے علاوہ بعض اہم اداروں کی تقسیم کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان برقی بقایا جات کے تنازعہ پر اجلاس میں کوئی غور نہیں ہوا۔ تلنگانہ کی جانب سے تنظیم جدید قانون کے وعدوں پر عمل آوری کا مطالبہ کیا گیا۔ ریلوے زون کے قیام کے مطالبہ پر مرکزی عہدیداروں نے کہا کہ ریاست میں ریلوے زون کا قیام ممکن نہیں ہے۔ اس معاملہ کو مرکزی کابینہ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اجلاس میں شیڈول 9 اور شیڈول 10 کے اداروں کی تقسیم کا جائزہ لیا گیا۔ 53 عوامی شعبہ کے اداروں کے بارے میں دونوں ریاستوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 15 اداروں کے بارے میں تلنگانہ کے موقف سے آندھرا پردیش کو اختلاف ہے جبکہ 22 اداروں کے بارے میں تلنگانہ نے اپنا اختلافی نوٹ پیش کیا ہے۔ دکن انفراسٹرااسٹرکچر اینڈ لینڈ ہولڈنگ لمیٹیڈ کے علاوہ اے پی ڈیری ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے معاملات ہائی کورٹ میں زیر دوران ہیں۔ شیڈول 10 کے 142 اداروں کی تقسیم کا جائزہ لیا گیا اور ان میں سے کئی امور عدالتوں میں زیر دوران ہیں۔ سنگارینی کالریز اور آندھرا پردیش ہیوی مشنری انجینئرنگ لمیٹیڈ کی تقسیم پر غور کیا گیا۔ تلنگانہ نے اثاثہ جات کی یکساں تقسیم کا مطالبہ کیا۔ سیول سپلائیز کارپوریشن کی رقم کی تقسیم کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ تلنگانہ نے پسماندہ اضلاع کی ترقی کیلئے مرکز سے فنڈز کی اجرائی میں تاخیر کی شکایت کی۔ مرکزی معتمد داخلہ نے اس سلسلہ میں وزارت فینانس کو فنڈ جاری کرنے کی ہدایت دی۔ تلنگانہ میں ٹرائیبل یونیورسٹی کے قیام کے مسئلہ پر ہوم سکریٹری نے وزارت اعلیٰ تعلیم کو اس معاملہ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کے مسئلہ پر ہوم سکریٹری نے وزارت ریلویز کو ضروری کارروائی کی ہدایت دی۔ تلنگانہ کی جانب سے اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں چیف سکریٹری سومیش کمار، اسپیشل چیف سکریٹری سنیل شرما، اسپیشل چیف سکریٹری فینانس رام کرشنا راؤ، پرنسپل سکریٹری انفارمیشن ٹکنالوجی جیش رنجن، سکریٹری آر اینڈ بی سرینواس راجو، کمشنر سیول سپلائیز انیل کمار، ریسیڈنٹ کمشنر تلنگانہ بھون ڈاکٹر گورواوپل، جائنٹ منیجنگ ڈائرکٹر ٹرانسکو سرینواس راؤ اور ڈائرکٹر آپریشن سنگارینی کالریز چندر شیکھر نے شرکت کی۔ر