راجیو یووا وکاسم کے تحت 6 ہزار کروڑ کی امداد، 58 انٹیگریٹیڈ اسکولوں کی منظوری، اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر کی بجٹ تقریر
حیدرآباد۔/19 مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ سماجی ترقی کو یقینی بنانے حکومت نے بڑے پیمانے پر ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ تقریر میں بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ یو پی اے کی صدرنشین سونیا گاندھی اور آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2009 میں مفت تعلیم کی فراہمی کا قانون نافذ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں 1023 سرکاری اقامتی اسکولس ہیں جن میں سے 662 اسکولس کی ذاتی عمارتیں نہیں ہیں۔ کئی اقامتی اسکولس بنیادی سہولتوں کے بغیر کام کررہے ہیں اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس کامپلکس میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کے اسکولس ایک ہی چھت کے نیچے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 58 انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکول کامپلکسوں کیلئے حکومت نے 11600 کروڑ کی منظوری دی ہے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ایک انٹیگریٹیڈ اسکول قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ 20 تا 25 ایکر اراضی پر یہ اسکولس قائم کئے جائیں گے جو تمام تر سہولتوں سے آراستہ رہیں گے۔ طلبہ کو آئی آئی ٹی، جے ای ای ، نیٹ اور دیگر امتحانات کی کوچنگ دی جائے گی اور یونیفارم کے علاوہ نوٹ بکس اور ٹکسٹ بکس مفت سربراہ کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری ہاسٹلس کے ڈائیٹ چارجس میں 40 فیصد اور کاسمیٹکس چارجس میں 200 فیصد کا اضافہ کیا ہے جس سے 7.66 لاکھ طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا مقصد تمام طبقات کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ حکومت نے مچرلہ میں ینگ انڈیا اِسکل یونیورسٹی قائم کی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ مختلف سرکاری محکمہ جات میں 57496 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے گئے۔ حکومت نے 30228 نئی جائیدادوں کی مختلف محکمہ جات میں منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروپ I ، II اور III کے ریکروٹمنٹ کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیو یووا وکاسم اسکیم کے تحت ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کے بیروزگار نوجوانوں کو 6 ہزار کروڑ کا قرض جاری کیا جائے گا۔ 4 لاکھ روپئے تک کی مالی امداد سے وہ خود روزگار سے وابستہ ہوجائیں گے۔1