تنیشا کی موت :خیراتی ہاسپٹلس پر پیشگی رقم وصول نہ کرنے کی پابندی

   

ممبئی: پونے میں حاملہ خاتون تنیشا بھیسے کی مالی عدم استطاعت کے باعث موت کے سانحہ نے ریاستی حکومت کو فوری حرکت میں آنے پر مجبور کر دیا۔ دیناناتھ منگیشکر ہاسپٹل کی جانب سے 10 لاکھ ایڈوانس نہ ہونے پر علاج سے انکار کے بعد اب ریاستی قانون و عدلیہ محکمہ نے تمام رجسٹرڈ خیراتی ہاسپٹلوں کو واضح اور سخت ہدایات جاری کی ہیں۔اب ان ہاسپٹلوں پر لازم ہوگا کہ وہ پیشگی ادائیگی کی شرط کے بغیر غریب و نادار مریضوں کو ایمرجنسی حالات میں فوری طبی امداد فراہم کریں۔ یہ اقدام تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کے بعد کیا گیا ہے ، جس کی سربراہی پونے کے جوائنٹ چیریٹی کمشنر نے کی تھی۔ریاستی حکومت نے کمیٹی کی سفارشات کو فوراً نافذ کرتے ہوئے یہ شرط عائد کی ہے کہ خیراتی ہاسپٹلوں کو چیریٹی ہاسپٹل ریلیف سیکشن (سی ایچ آر ایس ) منترالیہ سے مختص بستروں، سرجری اور علاج کیلئے پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ مریضوں کو فوری طور پر داخل کرنے کے بعد آن لائن رجسٹریشن کرنا ہوگا اور بعد ازاں امداد کی تجویزسی ایچ آر ایس کو روانہ کرنی ہوگی۔اگرچہ ان اقدامات کو لازمی نہیں بنایا گیا، مگر ہاسپٹلوں سے یہ توقع ضرور کی جا رہی ہے کہ وہ آیوشمان بھارت، مہاتما جیوتیبا پھولے جنا آروگیہ یوجنا، اور راشٹریہ بال سوستھیا کاریاکرم جیسی اسکیموں میں اپنا اندراج کرائیں تاکہ عوام تک بہتر طبی سہولیات پہنچائی جا سکیں۔اس کے علاوہ، ہاسپٹلوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے غریب مریضوں کے فنڈ کی تفصیلات چیریٹی کمشنر کی ویب سائٹ پر باقاعدہ طور پر اپ ڈیٹ کریں تاکہ اس امداد میں شفافیت برقرار رہے جو مالی لحاظ سے کمزور افراد کو دی جا رہی ہے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے جاری قرارداد میں ہدایت دی گئی ہے کہ ہاسپٹل آؤٹ سورس فارمیسیوں اور تشخیصی سروسز سے حاصل آمدنی کا کم از کم 2 فیصد حصہ غریب مریضوں کے فنڈ میں جمع کریں تاکہ مفت اور رعایتی علاج کیلئے مزید وسائل دستیاب ہو سکیں۔اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اب ہاسپٹل کسی بھی حاملہ خاتون یا دیگر ایمرجنسی مریض سے غیر ضروری ڈپازٹ کا مطالبہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی مالی وجوہات پر علاج سے انکار کا جواز پیش کر سکتے ہیں۔
مزید برآں، ان پر یہ بھی پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ صرف ان ہی دستاویزات کا مطالبہ کریں جو ہائی کورٹ یا حکومتِ مہاراشٹرا کی جانب سے لازم قرار دی گئی ہوں۔یہ تمام اقدامات ستارہ درجہ کے ان نجی ہاسپٹلوں پر ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں، جنہیں زمین، ٹیکس اور یوٹیلیٹی بلز میں رعایتیں حاصل ہیں۔ ان مراعات کے بدلے ان پر لازم تھا کہ وہ سالانہ 1.80 لاکھ روپے سے کم آمدنی والے مریضوں کو مفت اور 3.60 لاکھ سے کم آمدنی والوں کو رعایتی علاج فراہم کریں، مگر اکثر ہاسپٹل ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں۔