ممبئی: گجرات فسادات 2002 سے وابستہ ایک معاملہ میں گجرات اے ٹی ایس کی ٹیم نے ممبئی میں سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کو حراست میں لے لیا ہے اور انہیں سانتاکروز پولیس اسٹیشن لایا گیا ہے۔ فنڈ کے غلط استعمال کے معاملہ میں تیستا سیتلواد سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔تازہ اطلاعات کے مطابق گجرات اے ٹی ایس نے تیستا سیتالوادسمیت دو سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ اور آر بی سری کمار کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا ہے۔ احمد آباد شہر کی پولیس کرائم برانچ کے انسپکٹر درشن سنگھ بی براڑ کی شکایت پر ان تینوں کے خلاف ایف آئی درج کی گئی ہے۔ ان پر غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے ذکیہ جعفری کے ذریعے عدالت میں کئی عرضیاں دائر کیں اور ایس آئی ٹی سربراہ اور دوسرے کمیشن کو غلط معلومات فراہم کیں۔رپورٹ کے مطابق ممبئی پولیس فی الحال دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔ اس کے بعد اے ٹی ایم سماجی کارکن کو اپنے ساتھ لے کر احمد آباد میں واقع صدر دفتر لے کر جائے گی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز 24 جون کو گجرات فسادات پر ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے خلاف دائر کی گئی ایک عرضی کو سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔ اس عرضی کو آنجہانی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیستا سیتلواد کی تحقیقات کی جانی چاہئے کیونکہ اس معاملہ میں وہ ذکیہ جعفری کے جذبات کا استعمال خفیہ طور پر اپنے فائدہ کے لئے کر رہی تھیں۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ تیستا سیتلواد اس معاملہ میں لگاتار شامل رہیں جبکہ ذکیہ احسان جعفری اس معاملہ کی اصل متاثرہ ہیں۔دریں اثنا، معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے ٹوئٹ کیا ’’گجرات اے ٹی ایس تیستا سیتلواد کے گھر پر پہنچ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی گرفتاری وارنٹ نہیں ہے۔ انسانی حقوق کارکنان کے خلاف لگاتار ہو رہے حملے قابل مذمت ہیں۔’’ شبنم ہاشمی نے بعد میں ایک اور ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ تیستا سیتلواد کو آئی پی سی کی دفعات 468، 471، 194، 211، 218 اور 120B کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔