کروڑہا کی جائیدادیں کڑیوں کے مول فروخت کرنے سے بچیں: ماجد انصاری
حیدرآباد ۔ 24 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : جناب ایم اے ایم انصاری سی ای او دکن پروفیشنل کنسلٹیٹس نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ جو جائیدادیں کافی عرصہ قبل ہزاروں یا لاکھوں میں خریدی گئی تھی رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں اچھال کی وجہ سے وہ جائیدادیں کروڑوں روپیوں کی مالیت کی ہوگئی لیکن کچھ مالکان جائیداد نے سیل ڈیڈ کو رجسٹرار کے پاس رجسٹری کرالیتے وقت قانونی مشورہ لیے بغیر اہم قانونی نکات کو جائیداد کے ڈاکومنٹس میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے قانونی مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ نتیجہ میں وہ اپنی جائیدادوں کو فروخت نہیں کر پارہے ہیں یا غیر مجاز افراد ان جائیدادوں پر قابض ہوگئے ۔ ان تمام مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈی پی سی نے ایک مہم کا آغاز کیا جس کے تحت یہ جانچا جائے گا کہ آپ کی خریدی ہوئی جائیدادوں کا قانونی موقف کتنا مستحکم ہے اور پراپرٹی ڈاکومنٹس لیگل اسکروٹننگ رپورٹ تیار کی جائے گی جس کے لیے ایک پیانل جناب سید بشیر الدین ریٹائرڈ ڈپٹی کلکٹر و سید بشیر الدین ریٹائرڈ سب رجسٹرار کی سرپرستی میں ترتیب دیا گیا جس میں سیول میاٹرس کے ایڈوکیٹس بھی شامل ہیں ۔ علاوہ اس کے ریونیو میاٹرس اور دھرنی پورٹل کے تعلق سے جو بھی مسائل درپیش ہیں پیانل ارکان جناب محمد عارف ایم آر او ، آر ڈی او و متعلقہ اضلاع کے کلکٹرس سے نمائندگی کریں گے اگر مقدمات ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں بھی التواء کا شکار ہو تو اس کا بھی جائزہ لیا جائے گا ۔ حکومت تلنگانہ کا جی او ایم ایس 14 جس کے تحت گورنمنٹ لینڈ کا تنازعہ ہے ۔ 31 مارچ 2022 تک اراضیات کو ریگولرائیزڈ کروانے کے لیے پیانل کی خدمات دستیاب رہے گی ۔ مزید تفصیلات کیلئے ڈی پی سی کے آفس راہول کالونی فیز II ٹولی چوکی روبرو ریلائنس مارٹ یا موبائل 9246549555 پر ربط کریں ۔۔