دہشت گرد تنظیم پی کے کے کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا جائے گا، ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلی قایا کا اہم بیان
انقرہ : سال کے آغاز سے 9 دسمبر تک ایک لاکھ 24 ہزار 325 شامی رضا کارانہ طور پر، بحفاظت، پْروقار اور منّظم شکل میں اپنے وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔ ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلی قایا نے کہا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے 9 ڈسمبر تک ایک لاکھ 24 ہزار 325 شامی رضاکارانہ طور پر، بحفاظت، پْروقار اور منّظم شکل میں اپنے وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔ قونیہ سے جاری کردہ بیان میں یرلی قایا نے کہا ہے کہ اس سال 9 دسمبر تک 124,325 شامی بھائی رضاکارانہ طور پر، بحفاظت، پروقار اور منّظم شکل میں اپنے وطن واپس لوٹے ہیں۔ اس عرصے میں رضاکارانہ،محفوظ اور منّظم واپسی کی ماہانہ اوسط 11 ہزار ہے۔ شام کی آزادی کے بعد، اپنے وطن واپس جانے والے شامیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نقل مکانی کے لئے ہمارے انتظامی ڈھانچے کے بنیادی رہنما عناصر انسانی حقوق اور آزادیاں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ داخلی سلامتی کے معاملہ میں، ہم عام جرائم سے لے کر دہشت گرد تنظیموں، منظم جرائم کے گروہوں سے لے کر منشیات فروشوں اور سائبر حملہ آوروں تک، ترکیہ کے امن و امان کے لیے تمام خطرات کے خلاف مضبوط موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہم، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک، آخری منظم جرائم کے نیٹ ورک کی تباہی تک اور آخری منشیات فروش کو عدالت کے کٹہرے میں لانے تک، پوری طاقت سے کام کرنا جاری رکھیں گے۔ دہشت گرد تنظیم PKK کے ٹھکانوں میں داخل ہونے اور شہروں کے اندر ان کے سیلوں کو تباہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یرلی قایا نے کہا ہے کہ اس سال کے پہلے 11 مہینوں میں، علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں ہم نے 779 دہشت گردوں کو ختم کیا۔ ہم نے، 15 جولائی کی غدارانہ بغاوت کی کوشش کے سرغنہ، فیتو کے سربراہ کی موت کے بعد، اس غدار دہشت گرد تنظیم کے خلاف، اپنی جنگ میں کوئی نرمی نہیں آنے دی۔ دہشت گردی کا نام مختلف ہو سکتا ہے لیکن اس کا مقصد ایک ہی ہے، اس کا ماخذ ایک ہی ہے۔ اس سال کے پہلے 11 مہینوں میں، فیتو، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں 1894 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔