اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش ناقابل برداشت، جائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔13۔ستمبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی سے متعلق اپنا موقف واضح کرے یا ریاست گیر سطح پر مسلمانوں کے احتجاج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔ مسلمان اپنی موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیںلیکن ان جائیدادوں کو اب مزید تباہ ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ریاستی حکومت منظم انداز میں وقف جائیدادوں کی تباہی کو یقینی بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو تلنگانہ وقف بورڈ کے پاس کوئی اراضی باقی نہیں رہے گی۔ جامعہ نظامیہ کی موقوفہ جائیداد کے تحفظ کے لئے تشکیل دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران مقررین نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو انتباہ دیا کہ اگر اس مسئلہ پر وقف بورڈ ‘ محکمہ اقلیتی بہبود اور حکومت تلنگانہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرتی ہے تو ایسی صورت میں احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی اور تمام اضلاع میں اس تحریک کو لے جایا جائے گا۔ اس احتجاجی جلسہ عام سے جناب امجد اللہ خان خالد‘ جناب مجاہد ہاشمی ‘ جناب محمد عبدالوہاب‘ جناب خواجہ بلال ‘ جناب علیم خان فلکی‘ جناب میر عنایت علی باقری ‘ جناب ابرار حسین آزاد‘پروفیسر انور خان کے علاوہ دیگر نے مخاطب کرتے ہوئے ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی کے تحفظ کے لئے احتجاج کو واحد راستہ قرار دیا اور کہا کہ اگر احتجاج میں شدت پیدا نہیں کی جاتی ہے تو 1لاکھ 25ہزار کروڑ مالیت کی اس اراضی کو بچانا ممکن نہیں رہے گا۔ جناب امجد اللہ خان خالد نے اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کے دوران ’جامعہ نظامیہ ‘ کی موقوفہ اراضی سے متعلق ’مجلس ‘ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کے جی تا پی جی کالج کی این او سی کے حصول کے لئے جامعہ نظامیہ کی اراضی کا سودا کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست 22A میں آج درج نہیں کی گئی ہے بلکہ 2009 سے رائے درگ کی یہ اراضی اس فہرست میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس اراضی کو ہراج کے ذریعہ فروخت کرنے کے علاوہ ڈیولپمنٹ کے لئے دیا جاتا رہا ہے۔ جناب مجاہد ہاشمی نے اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کے دوران کہا کہ ’جامعہ نظامیہ‘ جنوبی ہند کی عظیم دینی درسگاہ ہے اور اس دینی درسگاہ کی جائیدادوں کے متعلق عوام کو گمراہ کرتے ہوئے اثاثوں کو تباہ کرنے کی جس انداز میں کوشش کی جار ہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملت کے اثاثوں کی حفاظت ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے اسی لئے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے تحفظ اور اپنی نسلوں میں دین کی بقاء کے لئے ’جامعہ نظامیہ ‘ اور اس کے اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ جناب علیم خان فلکی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک اپنے حق کے حصول کے لئے جدوجہد نہیں کی جاتی اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہوتی ۔ انہو ں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی نگرانی میں وقف جائیدادوں کی تباہی کے امت مسلمہ کا المیہ ہے ۔ احتجاجی مظاہرہ میں شامل افراد نے مستقبل کے لائحہ عمل کی تیاری اور ترتیب کے لئے دیگر ملی و مذہبی تنظیموں و اداروں کے ذمہ داروں سے ملاقات کے علاوہ انہیں مذکورہ اراضی کے موقف کے متعلق واقف کروانے اور اس مہم کو اضلاع میں توسیع دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’اوقافی ‘ جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے ذریعہ امت مسلمہ کو فائدہ پہنچانے کے لئے کی جانے والی کوشش میں شدت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم موقوفہ جائیدادوں کی تفصیلات کو منظر عام پر لاتے ہوئے عوامی تائید و حمایت کے علاوہ مدد سے ان جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔3