11 اگست کو رائے درگ میں اجلاس، وقف بورڈ کی خاموشی، طلبائے قدیم کو حرکت میں آنے کی ضرورت
محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد۔یکم۔اگسٹ۔ حکومت تلنگانہ نے ’جامعہ نظامیہ ‘ کی موقوفہ اراضی میں شامل مزید 10 ایکڑ سے زائد اراضی کو ہراج کے ذریعہ فروخت کرنے کا اعلامیہ جاری کیا ہے۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے تلگو کے مؤخر روزنامہ ’’ایناڈو‘‘ میں شائع اشتہار میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ 175 کروڑ روپئے فی ایکڑ سے اس اراضی کی بولی کا آغاز ہوگااور 11اگسٹ 2026 کو دن میں 11:30 بجے رائے درگ میں واقع T-Hubمیںہراج سے قبل ہونے والا اجلاس منعقد ہوگا۔جبکہ دو حصوں میں ہونے والے اس ہراج کے لئے 17اگسٹ اور 21 اگسٹ تاریخ منعقد کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے جو اشتہار جاری کیا ہے اس کے مطابق پلاٹ نمبر 1 میں 5ایکڑ 25گنٹہ اراضی کا ہراج کیا جائے گا جبکہ پلاٹ نمبر 2 میں موجود5ایکڑ 38 گنٹہ کا علحدہ ہراج منعقد کیا جائے گا۔ رائے درگ پان مقطعہ شیرلنگم پلی منڈل میں موجود سروے نمبر 83/1 میں موجود پلاٹ نمبر 1 جو کہ 5ایکڑ 25گنٹہ یعنی 25ہزار 414 مربع گز پر محیط ہے اس اراضی کا ہراج 17 اگسٹ 2026 کو منعقد ہوگا جبکہ پلاٹ نمبر 2 جو کہ 5ایکڑ 38 گنٹہ پر محیط ہے جس کا رقبہ 26ہزار 23 گز ہے اس کا ہراج 21 اگسٹ کو منعقد کیا جائے گا۔ جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ اس اراضی کے ہراج کے سلسلہ میں جاری کی جانے والی تفصیلات میں کسی بھی جگہ اس اراضی کے موقوفہ ہونے کی صراحت نہیں کی گئی ہے جبکہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن اس بات سے واقف ہے کہ مذکورہ جائیداد تلنگانہ وقف بورڈ کے پاس گزٹ میں درج ہے اور سال 2010 میں اس گزٹ کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے گمراہ کرتے ہوئے اس اراضی کی فروخت کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔اس جائیداد کے ہراج میں حصہ لینے کے لئے دھڑوت کی رقم جمع کروانے کی جو آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے وہ پلاٹ نمبر 1 کے لئے 14 اگسٹ رکھی گئی ہے جبکہ پلاٹ نمبر 2 کے لئے 19 اگسٹ آخری تاریخ رکھی گئی ہے۔ رائے درگ میں واقع T-Hub میں کارپوریشن کے عہدیداروں کی موجودگی میں 11 اگسٹ کو ہراج کے امور سے واقف کروانے کے سلسلہ میں اجلاس منعقد کیا جائے گا جو کہ دن میں 11:30 بجے منعقد ہوگا۔ ارباب جامعہ نظامیہ جو کہ اس انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی کے سلسلہ مکمل خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں اور تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے بھی اس معاملہ میں کسی بھی طرح کی پیشرفت سے گریز کیا جا رہاہے اور کہا جارہاہے کہ جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے معاملہ میں تمام تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں اور جلد ہی اس سلسلہ میں رپورٹ تیار کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کو مطلع کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن اب مکمل خاموشی اختیار کی جانے لگی ہے۔ارباب جامعہ نظامیہ یا طلبائے قدیم جامعہ نظامیہ اور طلبائے جامعہ اگر اپنے مادر علمی کے تحت موجود انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی کے تحفظ کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ اس ہراج میں شرکت کرنے والوں کو اس جائیداد کی شرعی و مالکانہ حیثیت سے واقف کروانے کے لئے کم ازکم مہم چلاتے ہوئے اس جائیدادکے تحفظ کو یقینی بناسکتے ہیں۔11اگسٹ کو 11:30 بجے دن رائے درگ میں T-Hub میں منعقد ہونے والے اجلاس کے مقام پر اگر طلبائے جامعہ کی جانب سے ہراج میں شرکت کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اراضی کی حقیقت کے متعلق شعور بیداری مہم بھی چلانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں سرکاری نگرانی میں ’’جامعہ نظامیہ ‘‘ کی اس جائیداد کے تحفظ کو تباہ کئے جانے سے روکا جاسکتا ہے۔تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچرکارپوریشن کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس ہراج کے اعلامیہ پر تلنگانہ وقف بورڈ کے ذمہ داروں کو بھی فوری حرکت میں آتے ہوئے اعتراض روانہ کرتے ہوئے ہراج کو روکنے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ UMEED پورٹل پر جس جائیداد کو وقف بورڈ نے مدلل دستاویزات کے ساتھ اپنی ملکیت قرار دیا ہے اسے محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور وزارت اقلیتی بہبود جو کہ ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اس لاکھوں کروڑ مالیت کی اراضی کی تباہی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیںانہیں بھی فوری حرکت میں آتے ہوئے یکم۔اگسٹ ۔2026 کو جاری کئے گئے اعلامیہ پر فوری روک لگاتے ہوئے اس جائیداد کے مالکانہ حقوق کے متعلق قطعی فیصلہ تک کسی بھی طرح کی منتقلی یا ہراج پر روک لگانے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ مذہبی ادارہ کے تحت موجود اس قیمتی جائیداد کو جس پر مسلمانوں کا حق ہے محفوظ کیا جاسکے۔H