جب تک امریکی دباؤ جاری،مذاکرات کا امکان نہیں:ایران

   

تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراکچی نے کہا ہیکہ جب تک زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رہے گی، امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا قطعی طور پر کوئی امکان نہیں ہوگا۔عباس عراکچی نے ایران کے دورہ پر موجود اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔دو طرفہ اور بین وفود کے مذاکرات کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراکچی نے کہا کہ انہوں نے لاوروف کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تفصیلی اور نتیجہ خیز گفتگو کی۔علاقائی پیشرفت بالخصوص فلسطین، لبنان اور شام پر تبادلہ خیال کیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے عراکچی نے کہا، “شام کے بارے میں ہمارے خیالات ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ ایران شام میں استحکام و امن کی حمایت کرتا ہے۔”انہوں نے بتایا کہ ہم غزہ میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کے امریکی منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اس معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس عنقریب ہو گا۔ایرانی وزیر نے جوہری معاملے پر امریکہ کے دباؤ کے تحت مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رہے گی، یقینی طور پر امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ تمام پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارت بڑھ رہی ہے۔ دوطرفہ تجارت میں گزشتہ سال 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔یکطرفہ پابندیاں ناقابل قبول ہونے پر زور دیتے ہوئے لاوروف نے کہاکہ ہم معیشت پر ان پابندیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام جاری ر کھیں گے۔