حیدرآباد میں قتل اور حملوں کے واقعات میں اضافہ، وزیر داخلہ سے اجلاس طلب کرنے کانگریس کا مطالبہ
حیدرآباد۔/29 مئی، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس عہدیداروں کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق صدر نشین میناریٹیز ڈپارٹمنٹ سمیر ولی اللہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس عہدیداروں میں جوابدہی کی کمی اور جرائم میں اضافہ کیلئے ذمہ دار قراردینے کی روایت ختم ہونے کے نتیجہ میں جرائم میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران برسرعام دو افراد کا قتل کردیا گیا اور ایک بیوہ خاتون پر دن دھاڑے قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مجرمین کو قانون اور پولیس کا ڈر نہیں ہے۔ یہ رجحان انتہائی خطرناک ہے اور پولیس اور قانون کا ڈر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ سرور نگر اور بیگم بازار میں پیش آئے قتل کے واقعات کے سلسلہ میں پولیس کا رویہ توقع کے مطابق نہیں تھا۔ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی اور سزاء دلانے میں پولیس کی ناکامی کے سبب دوسروں کو ہمت پیدا ہورہی ہے اور اپنے حریفوں کے خلاف حملے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے۔ حیدرآباد میں ایک ہزار کی آبادی پر 36 کیمرے نصب کئے گئے ہیں اور جملہ کیمروں کی تعداد 2.85 لاکھ ہوچکی ہے۔ ٹاملناڈو میں 1.50 لاکھ کیمرے نصب ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے باوجود کھلے عام جرائم میں اضافہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عہدیداروں کو جرائم کیلئے ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیئے۔ حالیہ واقعات کیلئے ایک کانسٹبل کو بھی معطل نہیں کیا گیا۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی حیدرآباد پولیس کی ہمیشہ ستائش کرتے رہے ہیں اور انہیں جرائم میں اضافہ پر جائزہ اجلاس طلب کرنا چاہیئے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ عوام میں شعور بیدار کیا جائے کہ وہ مجرمین کے خلاف فوری دفاعی موقف اختیار کریں اور انہیں قاتلانہ حملہ سے روکنے کیلئے میدان میں آئیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ تماشائی بنے رہتے ہیں۔ جس پولیس اسٹیشن میں اس طرح کے واقعات پیش آئیں وہاں کے اسٹیشن ہاوز آفیسر، سب انسپکٹر، ہیڈ کانسٹبل اور کانسٹبل کو معطل کیا جانا چاہیئے۔ر