پروین کمال
کبھی کبھی کچھ ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جو نہ صرف جذباتی ہوتی ہیں بلکہ دل و دماغ کی گہرائیوں تک پہنچ کر خوشی اور مسرت کے پھول بکھیر دیتی ہیں۔ آج کا موضوع ہے: جرمنی میں اسلامی علوم کی اہمیت اور اس کو آگے بڑھانے کی جستجو ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس مقصد میں کہاں تک کارفرما ثابت ہوتے ہیں۔ میں نے جرمنی کی تاریخ کا جتنی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، وہ ہر زاویے سے منشور کی طرح صاف و شفاف اور اپنی راہ پر ہموار رہنے والا ایک ایسا ملک نظر آیا جس نے جنگ عظیم میں شکست کے بعد ہتھیار تو ڈال دیئے لیکن اس شکست سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔ وہ ایک درس ہی تو تھا جس پر عمل کرکے آج وہ یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ، دولت مند ملک کا اعزاز حاصل کرچکا ہے۔ 81 سال کی مدت بہت طویل ہوتی ہے جو اس نے جنگ کے بعد طئے کی ہے۔ خاردار کاٹیاں ملیں جسے ہمت کی ٹھوکروں سے ہٹاتا ہوا آگے بڑھتا رہا اور آج منزل کی اوج پر ہے۔ جرمنی نے حالیہ نئے راستے، نئی منزلیں حاصل کرنے کی جدوجہد میں ایک ایسی سمت اپنا رخ موڑ لیا ہے جس کی وجہ سے دینی علوم کی طرف رغبت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے چنانچہ یہ بات حیرت کے ساتھ سنی جائے گی کہ جرمنی یونیورسٹی میں یوروپ کی پہلی اسلامی علوم کی آزاد جماعت کا آغاز ہوچکا ہے۔ مغربی جرمنی کے ایک شہر مونسٹر (Munster)میں گزشتہ پانچ سال قبل Campus of Religions کی شروعات ہوچکی ہے جس کا افتتاح آئندہ سال ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت تمام مذہبی علوم ایک ہی جگہ پر پڑھائے جائیں گے۔ جو ظاہر ہے کہ نصاب کا اہم حصہ ہوں گے۔ اس منصوبے کو خاص طور پر اس لئے اہمیت دی جارہی ہے کہ پورے یورپ میں پہلی مرتبہ کسی سرکاری یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی ایک آزاد جماعت قائم کی گئی ہے۔ پی ایچ ڈی اور اعلیٰ تحقیقی ڈگریاں جاری کرنے کے اختیارات بھی آئندہ اسے حاصل ہوجائیں گے جس سے علمی تحقیق کو بہت فروغ ملے گا۔ پروفیسر خورشید کے بموجب چودہ سال پہلے جب اسلامی علوم کا سنٹر قائم ہوا تھا۔ اس وقت وہاں صرف 15 طلبہ اور 3 اساتذہ تھے لیکن آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اس مرکز میں 8 پروفیسرس کام کرتے ہیں جبکہ 50 سے زائد ملازمین ہیں جو ہمہ وقت اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سو طلبہ جہاں اس وقت اپنے علم کی پیاس بجھا رہے ہیں جو مسلم دنیا کیلئے ایک بہت بڑا ریکارڈ ہے۔ پروفیسر کے بموجب جرمنی کے سرکاری اسکولوں میں اسلامی دینی تعلیم بھی دی جاتی رہی ہے لیکن اس کا سلسلہ سرسری تھا۔ اب اس کو باقاعدہ فروغ دیا جائے گا۔ مگر اس کیلئے اساتذہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا چاہئے۔ شہر مونسٹر میں اس وقت صرف 300 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جو کہ بڑھتی ہوئی طلبہ کی تعداد کیلئے ناکافی ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے تمام علماء نے مل کر ایک تجویز ترتیب دی ہے کہ اب آئندہ مزید ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ان طلباء کو ملازمتیں دی جائیں جو تعلیم سے فارغ ہوکر ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ یہ موقع ان کیلئے بہت اچھا ہے کہ تعلیم سے فارغ ہوتے ہی ملازمت آسانی سے مل جائے گی اور یوں بیروزگاری کا گراف بھی کم ہوسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلان ہے ۔ اگر کامیاب ہوجائے تو سرکاری اور عوامی سطح پر بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ شہر مونسٹر جس نے دینی علوم کو فروغ دینے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔ تازہ اطلاعات کے بموجب وہاں ماسٹرس پروگرام شروع کرنے کی بھی اطلاع مل رہی ہے جس کو اسلام اور سماجی خدمات سے موسوم کیا جائے گا۔ اس میں نوجوان کی فلاح و بہبود، دواخانوں میں مذہبی رغبت اور بزرگوں اور معذوروں کی نگہداشت جیسے شعبے کھولے جائیں گے۔ اس میں خصوصی تربیت شدہ افراد کو بھرتی کرکے ضرورت پوری کی جائے گی۔
مغربی جرمنی کا پہلا شہر مونسٹر طویل عرصے سے مذہبی علوم کا اہم مرکز رہا ہے اور اب پہلی بار کرسچین اور اسلامی علوم کو شانہ بہ شانہ رکھ کر یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جہاں ہر چیز مشترکہ ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ انسانوں کی انسانوں سے قربت بڑھائی جائے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، ذات پات، رنگ و نسل، چھوٹا بڑا، کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر یہ احساس ہر انسان میں پیدا ہوجائے تو یہ بارود خانے جو آج منہ کھولے انسانی وجود کو ڈائنو سار کی طرح نگلنے کیلئے کھڑے ہیں۔ وہ سب بے جان ہوجائیں گے اور امن و سکون کی ایک ایسی فضاء بنے گی جو کبھی کسی نے نہ دیکھی ہو اور انسان یہ سوچتا رہ جائے گا کہ وہ زمین پر ہے یا بہشت میں۔