نئی دہلی: ملک کے سیاسی پس منظرمیں جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے ساتھ دو روزہ اہم نمائندہ اجتماع 3 مئی سے نئی دہلی میں منعقد ہورہا ہے ، اس اجلاس میں ملک کی تمام ریاستوں کے صدورونظماء اعلیٰ، ذمہ داران اوردیگر مندوبین شریک ہورہے ہیں۔ وقف قانون کے سلسلے میں قانونی جدوجہد، پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ، ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت،مذہب کی بنیادپر مساجد، مدارس اورمکانات کو سپریم کورٹ کے گائیڈلائن کے باوجود غیرقانونی کہہ کر بلڈوز کرنا سمیت دوسرے سلگتے ہوئے مسائل اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ جمعیۃعلماء ہند ملک کی سب سے بڑی اورسب سے زیادہ سرگرم رہنے والی تنظیم ہے ، اس کے پاس ملک وقوم کی خدمت کا ایک شانداراورقابل فخرماضی بھی ہے۔ ہماراملک ایک جمہوری ملک ہے ، جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے، حب الوطنی اوراتحادکو برقراررکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ پیارومحبت کے ساتھ رہتے آئے ہیں، اس کی بنیادی وجہ ہماراآئین ہے اوریہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غلامی سے آزادی کے بعد ملک کی آئین سازی میں جمعیۃعلماء ہند کا بنیادی کرداررہاہے ، ملک کی آزادی کی جدوجہدمیں بھی جمعیۃعلماء ہند نے جو کلیدی کرداراداکیاہے وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔