جموں میں راج بھون کے باہر کشمیری پنڈت ملازمین کا احتجاجی دھرنا

   

جموں: جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری پنڈت ملازمین نے راج بھون کے باہر خاموشی دھرنا دیا۔مظاہرین نے کہاکہ ہم کشمیر جانے کے لئے تیار ہیں لیکن حکومت ہماری سیکورٹی کو یقینی بنائے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں جموں میں اٹیچ کیا جائے اور جب کشمیر میں حالات پوری طرح سے معمول پر آجائے پھر ہمیں وہاں پردوبارہ ٹرانسفر کیا جائے ۔یو این آئی اردو کے نامہ نگار نے بتایا کہ جمعرات کے روز جموں راج بھون کے باہر وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات ملازمین نے خاموشی احتجاجی دھرنا دیا۔مظاہرین نے ہاتھوں پر پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر ٹرانسفر کرنے کے الفاظ درج تھے ۔دھرنے پر بیٹھے ملازمین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم پچھلے 175دنوں سے احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے اُن کی جائز مانگوں کو پورا نہیں کیا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات رونما ہونے کے بعد وہ جموں چلے آئے ۔اُن کے مطابق پچھلے 175دنوں سے مسلسل احتجا ج پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے اُن کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے کوئی سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہاکہ پچھلے چھ ماہ کی تنخواہیں بھی واگزار نہیں کی گئیں ۔مظاہرین نے بتایا کہ گزشتہ روز ہی کشمیری پنڈتوں کا ایک وفد صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پول سے ملاقات کرنے کی خاطر کشمیر گیا لیکن وہاں پر بھی اُنہیں کوئی معقول جواب نہیں ملا ہے ۔اُن کے مطابق کشمیر کے حالات سازگار نہیں ہے لہذا ہمیں جموں میں بھی فی الحال تعینات کیا جائے