جموں وکشمیر میں آج بھی حالات معمول پر نہیں – ھجومی تشدد پر قانون نہ بنانے سے انجام برا ہوگا:مولانا سید ارشد مدنی

,

   

جمیعت علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے مسئلہ کشمیر کو لے کر اپنے موقف کو دہرایا ہے، مولانا نے کہا ہے حکومت کو وہاں کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا، وہاں کے لوگوں سے براہ راست گفتگو کرنی چاہیے۔ مولانا نے صاف طور پر دعوی کیا ہے کہ وہاں آج بھی حالات معمول پر نہیں ہے، عام شہری شدید مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اسکول اور کالجوں کا نظام بری طرح متاثر ہے، اور سینکڑوں نوجوان قید میں ہے اور کسی انکی فکر نہیں،۔

مولانا نے مزید کہا کہ  نےکہا کہ مسائل صرف بات چیت سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں ہےاورہمیں امید ہے کہ کشمیریوں کوانصاف ملے گا۔ انہوں نےکہا کہ تاریخ میں دنیا کی عظیم طاقت بھی طاقت کے بل پرمسئلہ حل نہیں کر سکی ہے‘ امریکہ اور روس کوافغان سے بھاگنے پرمجبور ہونا پڑا ہے۔

این ار سی پر بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ہم این ار سی کے خلاف نہیں، مگر اس میں تعصب سے کام نہیں ہونا چاہیے، ان کا ماننا ہے کہ کسی کو مذہب کی بنیاد پر شہریت نہیں دی جا سکتی، ۔ کسی بھی ملک میں شہریت صرف ضابطے، صحیح دستاویزات اور قانون کے مطابق دی جاتی ہے۔

مولانا نے ھجومی تشدد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر قانون نہیں بنایا گیا تو اسکا انجام بہت برا ہوگا، ملک کی جن ریاستوں میں جہاں غیر بی جے پی حکومتیں ہیں وہاں تو قانون بن چکا ہے، مگر جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں وہاں قانون نہیں بنا ہے، اگر قانون نہیں بنایا جاتا تو تمام مذاہب کے لوگوں کو نقصان ہوگا، اگر قانون نہیں بنتا تو اسکا یہی مطلب ہے کہ بی جے پی اسکی حمایت کر رہی ہے۔ اگر اسی طرح سے چلتا رہا تو نہ ہندو رہیں گے نہ مسلمان رہیں گے، ملک برباد ہوگا۔