سری نگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج کہا کہ نیشنل کانفرنس کو عوام نے بھاری منڈیٹ دیکر اپنے مسائل و مشکلات دو رکرنے کی بھاری ذمہ داری سونپی ہے اور ہماری حکومت کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ عوام کو ہر سطح پر راحت پہنچائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوا ہے اور ایک جمہوری سرکار معرض وجود آئی ہے جس کا سہرا عوام کے سر جاتا ہے ۔ ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے ساتھ میری ملاقات کے شوشے وہی لوگ پھیلا رہے ہیں جنہوں نے بھاجپا کو یہاں اپنے کندھوں پر بٹھا کر لایا اور یہاں کے عوام پر تسلط کردیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کر دیا جائے تب بھی یہاں ملی ٹینسی ختم نہیں ہو گی بلکہ اس کے لئے عوام کی حمایت کی ضرورت ہے ۔اگر ریاست کا درجہ بحال ہو جائے گا تو ہمیں سب کچھ مل جائے گا، ایسا نہیں ہے ، جو لوگ بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں کہ یہاں ملی ٹینسی ختم ہو گئی ہے ، ان سے پوچھیں کہ یہ اب بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل ہی 2فوجی ایک دیسی ساختہ بم دھماکے میں مارے گئے ۔ یہ کہاں سے آیا؟ ہمیں جموں و کشمیر میں معمولات کو بحال کرنے کیلئے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے ۔یہ وقت ہے کہ ہمیں امن قائم کرنا چاہیے ۔یہاں امن ہی کچھ کر سکتا ہے ۔ہمارے بچے بے روزگار ہیں۔جب امن نہیں ہے تو ان مسائل کو کیسے حل کیا جائے گا؟
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سوپور کے ٹرک ڈرائیور کو مارا گیا ، کٹھوعہ میں ایک شہری ٹارچر کے بعد خودکشی کردی، ایسے واقعات کیوں رونما ہورہے ہیں، یہ انسانی حقوق کی بدترین مثالیں ہیں؟ ان کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے اور حقائق کو عوام کے سامنے لانا چاہئے ۔