جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کو یکا و تنہا کرنے کی حکمت عملی پر عمل

   

امن کی برقراری میں عوام کا تعاون بھی مثالی ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس کا بیان
سرینگر 18 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ڈائرکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے کہاکہ پولیس اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ شدت پسندوں کو یکا و تنہا کردے تاکہ یہ لوگ عوام کو گمراہ نہ کرسکیں۔ سنگھ گزشتہ سال سے جموں و کشمیر کی پولیس کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے نظم و نسق کی برقراری میں عوام کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہاکہ سکیورٹی افواج نے جن میں پولیس، نیم فوجی دستے اور فوج شامل ہے، جہاں شاندار کارنامہ انجام دیا ہے وہیں ریاست کے عوام نے جو دست تعاون دراز کیا ہے اسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ ریاست میں صیانتی افواج کی موجودگی میں اضافہ کردیا گیا ہے وہیں 5 اگسٹ سے سخت تحدیدات عائد کردی گئی ہیں جب مرکز نے دفعہ 370 کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے ذریعہ ریاست کو خصوصی موقف حاصل تھا۔ اس کے علاوہ اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور لداخ کو مرکزی زیرانتظام علاقہ قرار دیا گیا۔ دستوری تبدیلیوں پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے سنگھ نے انکار کردیا لیکن اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ریاست میں ایک مثبت ترقی کے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ لوگوں کو ان تبدیلیوں کی خوبیوں کو سمجھنا چاہئے۔ پولیس فورس کے سربراہ کی حیثیت سے یہ میرا فرض ہے کہ اس بات کو یقینی بناؤں کہ مٹھی بھر عسکریت پسند جو اکثر پاکستان سے آتے ہیں، انھیں جموں و کشمیر کے عوام کو گمراہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے‘‘۔ اُنھوں نے بتایا کہ پولیس دو رُخی حکمت عملی پر عمل کررہی ہے تاکہ ریاست میں امن و سکون کو برقرار رکھا جاسکے۔ جہاں انسداد شورش پسندی مشنری دہشت گردوں پر دباؤ ڈال رہی ہے وہیں باقی ماندہ فورس نظم و نسق کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔ انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیاکہ گزشتہ 13 دنوں میں چھوٹے موٹے واقعات ہوئے ہیں مگر انھیں مقامی سطح پر پولیس نے قابو پالیا۔ اس دوران بعض شہری اور پولیس والے زخمی ہوگئے تھے جنھیں معمولی دیکھ بھال کے بعد دواخانوں سے گھر روانہ کردیا گیا۔