جموں و کشمیر میں ریل سرویس ، منی بس خدمات بحال

   

صورتحال بتدریج بہتر، بین ضلعی ٹیکسیاں، آٹو رکشے اور سرکاری ٹرانسپورٹ کا احیاء
سرینگر ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں ریل خدمات منگل کے دن تقریباً 3 ماہ تک معطل رہنے کے بعد بحال ہوگئی۔ انہیں صیانتی وجوہات کی بناء پر مرکز کی جانب سے دستورہند کی دفعہ 370 کی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد معطل کردیا گیا تھا۔ چند منی بسیں بھی بٹوارہ ۔ بٹمالو روٹ پر دوبارہ شروع کردی گئیں جبکہ بین ضلعی کشتیاں اور آٹو رکشہ شہر میں اور وادی کے دیگر علاقوں میں چلتے دکھائی دیئے۔ خانگی ٹرانسپورٹ بلارکاوٹ چل رہے تھے۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ایک ٹرین بارہمولہ اور سرینگر کے درمیان آج صبح سے شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرین بارہمولہ۔ سرینگر پٹی کے درمیان ہفتے میں دو ٹرپ کرے گی کیونکہ ریلوے عہدیداروں نے ٹرینوں کو 10 بجے دن تا 3 بجے شام کے درمیان صیانتی وجوہات کی بناء پر چلانے کی ہدایت دی ہے۔ ریلویز نے آزمائشی طور پر پیر کے دن سے پہلی بار 3 ماہ کے بعد شروع کی ہیں جبکہ پوری وادی میں مکمل بند منایا جارہا تھا۔ عہدیدار نے کہا کہ سرینگر ۔ بنی ہال پٹی کی ریلوے لائن پر چند دن میں خدمات کا احیاء عمل میں آئے گا۔ اس سے پہلے پٹریوں کے تحفظ اور آزمائشی دور کے تحفظ کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ 5 اگست صبح سے مرکزی حکومت نے اپنے فیصلہ کا اعلان کیا تھا۔

سابق ریاست کو دو مرکز زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ مرکز کے فیصلہ کے نتیجہ میں متفقہ طور پر وادی کشمیر میں بند منایا گیا اور اس کے 100 دن منگل کے دن مکمل ہوگئے جبکہ عہدیداروں نے شدید تحدیدات ناقص کر رکھی تھیں لیکن دن گذرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال میں بہتری دیکھی جارہی ہے۔ بازار نئے نمونے کے مطابق علی الصبح کھولے جارہے ہیں اور تقریباً دوپہر تک کھلے رہتے ہیں۔ اس کے بعد بند ہونے شروع ہوجاتے ہیں تاکہ احتجاج میں شدت کرسکیں۔ اشرار اور عسکریت پسند اپنی طاقت استعمال کررہے ہیں تاکہ متفقہ طور پر بند منایا جاسکے۔ وہ دکانداروں اور تاجر برادری کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ عہدیداروں کے بموجب دستی بم حملے شہر کے مصروف غنی خان مارکٹ اور کاکاسرائے علاقوں میں وقفہ وقفہ سے ہونا اس بات کی علامت ہیکہ وہ ٹھوس کوششیں کررہے ہیں تاکہ بند جاری رہے۔ پری پیڈ موبائیل فون اور تمام انٹرنیٹ خدمات 5 اگست سے اب تک بند ہیں۔ بیشتر اعلیٰ سطحی اور دوسرے درجہ کے علحدگی پسند سیاستدانوں کو احتیاطی نظربندی میں لے لیا گیا ہے جبکہ وزراء، آئے دن بشمول دو سابق چیف منسٹرس عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی یا تو حراست میں لئے گئے ہیں یا اپنے گھروں پر نظربند ہیں۔ حکومت نے سابق چیف منسٹر کو گرفتار کرلیا ہے اور موجودہ لوک سبھا رکن پارلیمنٹ سرینگر فاروق عبداللہ کو متنازعہ عوامی صیانت قانون کے تحت گرفتار کر رکھا ہے۔